Al-Risala · July 2009 · page 12

Doing Dawah work by the support of Madʻu.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۲

اور آشرم بن رہے تھے۔ ایک جگہ دکھائی دیا کہ سمنٹ کی ایک بہت بڑی پختہ ناؤ ہے اور اس کے اندر مندر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ان تعمیراتی مناظر کو دیکھ کر خیال آیا کہ ٹھیک یہی صورت حال خود موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ مسلم علاقوں میں ہر جگہ مسجد اور مدرسے کی بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں۔ گویا کہ ظاہری فارم میں زبردست ترقی ہو رہی ہے۔ لیکن جہاں تک مذہب کی اسپرٹ کا تعلق ہے، وہ ہندوؤں میں بھی مفقود ہے اور مسلمانوں میں بھی مفقود۔ ہندو اور مسلمان دونوں کا مشترک طور پر یہ حال ہے کہ ظواہر کی دھوم کو انھوں نے مذہب سمجھ لیا ہے، لیکن مذہب کی اصل روح نہ ہندوؤں میں پائی جاتی ہے اور نہ مسلمانوں میں۔

یہ صورتِ حال دراصل دورِ جدید کی پیداوار ہے۔ موجودہ زمانے میں تمام لوگوں کا اصل کنسرن (concern) مادی ترقی بن گیا ہے۔ داخلی صورت کے اعتبار سے ہر ایک مادہ پرست (materialist) ہے، البتہ فارم کی دھوم مچا کر وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اُس نے مذہب کو چھوڑا نہیں ہے، یہی وہ صورتِ حال ہے جس کا انتباہ پیشگی طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں دیا تھا: مساجد هم عامرة، وهي خراب من الهدی (رواه البيهقي في شعب الإيمان) یعنی ان کی مسجدیں بظاہر آباد نظر آئیں گی، مگر وہ ہدایت کے اعتبار سے ویران ہوں گی۔ ہماری گاڑی کا جو ڈرائیور تھا، وہ ایک تجربہ کار آدمی معلوم ہو رہا تھا۔ وہ پورے انہماک کے ساتھ گاڑی چلا رہا تھا۔ وہ تقریباً 25 سال سے گاڑی چلا رہا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کے ساتھ کبھی ایکسیڈنٹ کا واقعہ ہوا۔ اُس نے کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ اس کا راز کیا ہے۔ اُس نے گجراتی لہجے میں جواب دیا—دوسرے کو دیکھتے ہوئے اپنی گاڑی کو چلانا۔

میں نے سوچا کہ کامیاب اجتماعی زندگی کے لیے یہی سب سے اچھا فارمولا ہے۔ آدمی سماجی یا اجتماعی زندگی میں اکیلا نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ لوگوں کا مزاج عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے ہر نقصان کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دیتے ہیں۔ مگر یہ طریقہ غیر مفید بھی ہے اور ناقابلِ عمل بھی۔ کامیاب اجتماعی زندگی کے لیے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page