Al-Risala · July 2009 · page 13

Doing Dawah work by the support of Madʻu.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۳

اس دنیا میں قابلِ عمل طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنا کام کرنا۔ اپنے آپ کو یک طرفہ اخلاقیات کا پابند بنا لینا۔

25 فروری 2009 کو ہم لوگ تقریباً 2 بجے مہوا کے آشرم میں پہنچے۔ اس کے بانی مراری باپو (63 سال) ہیں۔ اس کا نام یہ ہے۔ کیلاش گروکل۔ اس کا کیمپس کافی بڑا اور وسیع ہے۔ اس گروکل میں غریب طلبا کے قیام و طعام اور ان کی تربیت کا انتظام ہے۔ وہ دن کے اوقات میں مہوا کے اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ اور اس کے بعد وہ گروکل کے ہاسٹل میں آ کر قیام کرتے ہیں۔ اُن کو تمام ضروریاتِ زندگی آشرم کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں۔

یہ پورا آشرم جدید طرز پر ایک منصوبہ بند انداز میں بنایا گیا ہے۔ یہاں ایسا نہیں ہے کہ پورا آشرم ایک ہی بڑی عمارت میں ہو۔ اس کے بجائے یہاں کا نقشہ یہ ہے کہ بہت سی عمارتیں الگ الگ بنائی گئی ہیں ۔ اُن کے درمیان کھلے علاقے ہیں جہاں درخت اور سبزہ اُگا ہوا ہے۔ پورے آشرم میں ناریل کے درختوں کی سرسبز قطاریں پھیلی ہوئی ہیں۔ صاف ہوا اور کھلی فضا یہاں کی خصوصیت ہے۔ فضائی کثافت نہ ہونے کی وجہ سے رات کے وقت آسمان میں ستارے جگمگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ہم لوگوں کو قیام کے لیے ایک مستقل عمارت دی گئی تھی۔ اس کا نام ’’رادھکا گیٹر‘‘ تھا۔ یہ جدید طرز کی ایک خوب صورت عمارت تھی۔ یہ پوری عمارت ہم لوگوں کے استعمال میں تھی۔ اس کے فرسٹ فلور پر ایک بڑا ہال اور کئی مختلف اور وسیع کمرے تھے۔ اس کے اوپر کھلی چھت پر ایک کشادہ کمرہ تھا۔ یہ یہاں کا گیسٹ ہاؤس تھا۔ اس میں ضرورت کی تمام چیزیں اعلیٰ معیاری صورت میں موجود تھیں۔ یہ ادارہ بنانے کا جدید تصور ہے، یعنی فطرت کے کھلے ماحول میں ادارے کی منصوبہ بند تعمیر۔ قدیم تصور کے مطابق، ادارہ صرف عمارتوں کا نام ہوا کرتا تھا۔ لیکن موجودہ زمانے میں ادارے کا یہ تصور متروک ہو چکا ہے۔ اب ادارہ ایک ایسی خوب صورت دنیا کا نام ہوتا ہے، جہاں منصوبہ بند عمارتیں ہوں۔ کھلی جگہیں ہوں اور سرسبز و شاداب ماحول ہو۔ وہ عمارتوں کا جنگل نہ ہو، بلکہ فطرت کے شاداب ماحول میں بنا ہوا ایک چھوٹا سا منصوبہ بند شہر ہو۔ اس سفر میں ہم نے دو آشرم دیکھے۔ سابرمتی آشرم، اور مراری باپو کا آشرم۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page