Doing Dawah work by the support of Madʻu.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۴
ہم نے پایا کہ دونوں آشرم اسی جدید تصور کے مطابق بنائے گئے ہیں۔
فطرت کے ماحول میں آشرم یا ادارہ بنانے کا ایک اور فائدہ ہے، وہ یہ کہ ایسے مقامات پر کثرت سے بیرونی سیاح اور فارنر (foreigner) آتے ہیں۔ مغربی دنیا ن بدن تمدن کا جنگل بنتی جارہی ہے۔ فطرت کا سکون وہاں کے ماحول میں موجود نہیں۔ اس سے اکتا کر مغربی دنیا کے لوگ بڑی تعداد میں مشرقی دنیا میں آتے ہیں۔ اُن کو عمارتوں کے جنگل سے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔ وہ روحانی سکون چاہتے ہیں جو انھیں فطرت کے ماحول میں ملتا ہے۔ چناں چہ مذکورہ قسم کے ہندو آشرم میں اکثر فارنر گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مگر مسلم اداروں میں اس قسم کے مغربی سیاح دکھائی نہیں دیتے ۔ کیوں کہ مسلم ادارے عام طور پر اپنے روایتی ذوق کی بنا پر عمارتوں کا جنگل ہوتے ہیں ، نہ کہ فطرت کے ماحول میں بنی ہوئی دنیا۔
جب میں آشرم میں پہنچا اور وہاں کے فطری ماحول کو دیکھا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ سادہ طور پر صرف ایک آشرم نہیں ہے، بلکہ وہ ایک اسپر پچول گارڈن (spiritual garden) ہے۔ اسپر پچول گارڈن کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہاں روحانی باتیں بتائی جائیں اور روحانیت کے موضوع پر تقریر کی جائے۔ لیکن صرف یہ بات کافی نہیں۔ کسی اسپر پچول گارڈن کو جو چیز اسپر پچول گارڈن بناتی ہے، اُس میں سب سے زیادہ دخل اس بات کا ہوتا ہے کہ اس کو فطرت کے ماحول میں بنایا گیا ہو، یعنی ایک ایسا ماحول جہاں کوئی بولنے والا جب روحانیت کی بات بولے تو وہاں کا فطری ماحول اس کی عملی تصدیق بن گیا ہو۔ 25 فروری 2009 کو ہم لوگ آشرم میں پہنچے۔ یہ دوپہر کا وقت تھا۔ ہم لوگوں نے یہ طے کیا کہ سب سے پہلے ظہر کی نماز ادا کی جائے۔ ہم لوگ پانچ آدمی تھے۔ ہم نے وہاں کے مہمان خانے میں باجماعت نماز ادا کی۔ کسی نئے ماحول میں پہلی بار نماز ادا کرنا ایک انوکھا تجربہ ہوتا ہے۔ یہ احساس کہ اس وقت میں اُس مقام پر خداوند برتر کے آگے سجدہ کر رہا ہوں، جہاں مجھ سے پہلے کسی نے سجدہ نہیں کیا۔ یہ احساس دل کے اندر ایک عجیب عبادتی کیفیت پیدا کرتا ہے جس کو انسانی الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues