Doing Dawah work by the support of Madʻu.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۶
جس کو خشوع یا خدا کی موجودگی کا تجربہ کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک شعوری عمل ہے، نہ کہ محض اعضا و جوارح کا ایک بے شعور عمل۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی جب نماز پڑھنا شروع کرے تو اس وقت وہ اپنی عقل کا استعمال بھی شروع کردے۔ اس قسم کا وقتی استعمال سرتا سر غیر فطری ہے۔ اصل یہ ہے کہ جو شخص رات اور دن اپنی مسلسل زندگی میں اپنی عقل کو معرفتِ الہیٰ کے حصول میں لگائے رہتا ہے، اُسی کو یہ توفیق ملتی ہے کہ اس کی نماز عقل و شعور کی نماز بن جائے۔ نماز سے پہلے عقل کا استعمال یادِ الہیٰ کے لئے ہوتا ہے۔ نماز کے دوران عقل کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جب شعوری اعتبار سے تیار ذہن کا مالک ہوتا ہے تو اس کی نماز میں شعوری معرفت کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ اس کی نماز رسمی نماز نہیں رہتی، بلکہ پورے معنوں میں وہ ایک زندہ نماز بن جاتی ہے۔
ہم لوگوں کے کھانے کا انتظام یہاں کے مہمان خانے کے ایک حصے میں علاحدہ طور پر کیا گیا تھا۔ نماز سے فراغت کے بعد ہم لوگ وہاں گئے اور دوپہر کا کھانا کھایا۔ یہ سادہ قسم کا ونجیٹرین (vegetarian) کھانا تھا۔ اس موقع پر ہم لوگوں نے گجراتی اخلاقیات کا تجربہ کیا۔ یہ کئی لوگ تھے جو تواضع کا پیکر بنے ہوئے تھے اور نہایت انہماک کے ساتھ کھانا کھلا رہے تھے۔ یہ عام لوگ نہیں تھے، بلکہ وہ دہلی اور گجرات کے بڑے بڑے تاجر تھے۔ وہ اتنے ذوق و شوق سے کھانا کھلا رہے تھے جیسے کہ ہم لوگ کوئی وی آئی پی گیسٹ (VIP guest) ہوں۔
گجراتیوں میں، بلکہ عمومی طور پر ہندوؤں میں یہی اخلاق پایا جاتا ہے۔ میں نے تجربہ کیا ہے کہ یہ لوگ نہایت عزت و احترام کا سلوک کرتے ہیں اور اپنے مہمانوں کے ساتھ خصوصی قدردانی کا معاملہ کرتے ہیں۔ یہ سب اُن کے بڑے کرتے ہیں، جب کہ مسلمانوں کے یہاں یہ رواج ہے کہ عام طور پر ”خادم“ کے درجے کے لوگ اس قسم کا کام کرتے ہیں۔
یہاں گجرات کے کئی مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک صاحب نے کہا کہ ایک بار وہ ایک بڑے مدرسے میں گئے۔ وہاں ان کی ملاقات مدرسے کے ایک استاد سے ہوئی۔ یہ استاد راقم الحروف
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues