Al-Risala · July 2009 · page 17

Doing Dawah work by the support of Madʻu.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۷

کے بارے میں کچھ منفی خیالات رکھتے تھے۔ تاہم انھوںنے میری کتاب "مذہب اور جدید چیلنج" کی تعریف کی اور میرے بارے میں کہا کہ اس شخص کو اگر جنت ملے گی تو وہ اس کی مذہب اور جدید چیلنج کی بدولت ملے گی۔

میں نے کہا کہ اس قسم کی بات خدا کی عظمت کی تصغیر کے ہم معنی ہے۔ خدا اس سے برتر ہے کہ کسی کی کوئی کتاب اُس کے یہاں انعام کا ذریعہ بنے۔ خدا کے یہاں جو تحفہ قابلِ قدر پائے گا، وہ کتاب کا تحفہ نہیں ہے، بلکہ عجز کا تحفہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان قادرِ مطلق اور عاجزِ مطلق کی نسبت ہے۔ انسان اگر کوئی چیز اپنے رب کو پیش کر سکتا ہے تو وہ صرف عجز ہے، حقیقی عجز کے سوا کوئی بھی دوسری چیز خداوند ذوالجلال کے یہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ دوپہر کے بعد ہم لوگ مہمان خانے میں تھے۔ آشرم کے ایک شخص نے آکر بتایا کہ مُراری باپو آپ سے ملنے کے لئے آرہے ہیں۔ اتنے میں مراری باپو اندر داخل ہوئے ۔ وہ دونوں ہاتھ جوڑے ہوئے تھے، جیسا کہ ہندو لوگوں کا طریقہ ہے۔ انھوں نے ہم لوگوں کی خیریت دریافت کی اور پوچھا کہ آپ لوگ یہاں کمفرٹبل (comfortable) ہیں۔ انھوں نے غایتِ احترام کا مظاہرہ کیا۔ مراری باپو مشہور کتھا کار ہیں۔ ہندوستان میں اور ہندوستان کے باہر اُن کی کتھائیں بہت مقبول ہوتی ہیں۔ اُن کے ماننے والوں کا حلقہ بہت وسیع ہے۔

مراری باپو کی واپسی کے بعد میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مراری باپو ہندوؤں کے نزدیک ایک ٹاپ کے گرو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ عام طور پر خود کسی سے ملنے نہیں جاتے ۔ اس وقت مراری باپو کا یہاں آنا کوئی سادہ بات نہ تھی ۔ ان لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ چاہتے ہیں کہ منتظمین کسی مہمان کے ساتھ خصوصی اکرام اور اہتمام کا معاملہ کریں تو وہ خود اس کے پاس چلے جاتے ہیں۔ اُن کا اس طرح جانا منتظمین کے لیے ایک خاموش ہدایت ہوتی ہے۔ چناں چہ ہم نے دیکھا کہ ہمارے قیام کی پوری مدت میں وہاں کے لوگوں نے ہمارے ساتھ خصوصی معاملہ کیا۔ یہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی، وہ مراری باپو کو سب سے بڑے گرو کا درجہ دیتے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page