Doing Dawah work by the support of Madʻu.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۸
مزید یہ کہ اُن کے نزدیک گرو اور بھگوان میں کوئی فرق نہیں۔ اُن خیال تھا کہ جو گرو ہے، وہی بھگوان ہے۔ یہی معاملہ تقریباً تمام ہندوؤں کا ہے۔ ہندو لوگوں کا عام عقیدہ ہے کہ جو گرو ہے، وہی بھگوان۔ ان کے نزدیک گرو اور بھگوان میں کوئی فرق نہیں۔
اس معاملے پر میں نے غور کیا کہ آخر یہ لوگ گرو کو بھگوان کا درجہ کیوں دیتے ہیں۔ غور کرنے کے بعد سمجھ میں آیا کہ یہ دراصل وحدتِ وجود کے نظریے کا فطری نتیجہ ہے۔ توحید (monotheism) اور وحدتِ وجود (monism) دونوں دو الگ الگ نظریے ہیں۔ توحید کا عقیدہ پرسنل گاڈ (personal God) کو مانتا ہے۔ اس کے برعکس، وحدتِ وجود کا نظریہ غیر شخصی خدا (impersonal God) پر مبنی ہے۔
توحید کے نظریے میں خدا کو خالق مانا جاتا ہے۔ اس طرح توحید میں تمام واقعات کی توجیہہ مل جاتی ہے۔ لیکن وحدتِ وجود میں کوئی الگ ذات واقعات کی توجیہہ کے لیے موجود نہیں ہوتی۔ چناں چہ وحدتِ وجود کو ماننے والے لوگ جب ایک شخص کو گرو کے طور پر دیکھتے ہیں تو وہ مان لیتے ہیں کہ یہی شخص تمام واقعات کو وجود میں لانے کا سبب ہے۔
ہندوؤں میں وحدتِ وجود کا نظریہ نظریہ’’ادُوئت واد‘‘ کے نام سے رائج ہوا۔ چناں چہ انھوں نے گرو کو خدا کا درجہ دے دیا۔ ٹھیک یہی نظریہ صوفیوں کے ذریعے مسلمانوں میں رائج ہوا۔ چناں چہ مسلمانوں میں بھی اسی قسم کے عقائد پھیل گئے۔ مسلمانوں میں صوفیوں کو عملاً وہی خدائی کا درجہ دے دیا گیا جو ہندوؤں میں گرو کے لیے سمجھا جاتا تھا۔ اس نظریے کے زیر اثر مسلمانوں میں قطب اور ابدال جیسے نظریات پیدا ہوئے، جو بلاشبہ سرتا سرا یک باطل نظریہ ہے۔
جس وقت ہم لوگ مہمان خانے میں تھے، وہاں بمبئی کی ایک جدید تعلیم یافتہ خاتون ملاقات کے لیے آئیں۔ وہ انگریزی میں گفتگو کررہی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ مراری باپو کی عقیدت مندوں میں سے ہیں۔ ہمارے ساتھیوں نے اُن سے کچھ دعوتی باتیں کیں اور ان کو انگریزی زبان میں چھپا ہوا اسلامی لٹریچر مطالعے کے لیے دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues