Doing Dawah work by the support of Madʻu.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۹
اُن کے جانے کے بعد میرے ایک ساتھی نے سوال کیا کہ اس طرح کے انگریزی یافتہ لوگ کیسے کسی گرو کے عقیدت مند بن جاتے ہیں۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر فطری طور پر خدا کی طلب موجود رہتی ہے۔ ہر انسان خدا کو پانا چاہتا ہے۔ مگر خدا کو ماننے کی صورت میں آدمی کو سرینڈر کرنا پڑتا ہے۔ اس کو اپنی آزادی پر پابندی لگانی پڑتی ہے۔ جدید تعلیم یافتہ انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سرینڈر کرنا نہیں چاہتا۔ اس کو ایسا خدا نہیں چاہئے جو اس کی آزادی پر پابندی عائد کرے۔ ایسی حالت میں یہ لوگ کسی انسان کو خدا کا درجہ دے دیتے ہیں۔ اس طرح کے کسی انسان کو خدا کا درجہ دینے سے ان کے فطری جذبے کو فرضی تسکین (false satisfaction) مل جاتی ہے، اور اسی کے ساتھ اُن کی آزادی بھی باقی رہتی ہے۔
مراری باپو کے عقیدت مندوں کا حلقہ بہت وسیع ہے۔ 25 فروری 2009 کی شام کو مراری باپو کے کچھ عقیدت مند ہم لوگوں سے ملاقات کے لئے آئے ۔ یہ لوگ دہلی اور بمبئی اور گجرات سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ کافی دیر تک مراری باپو کی کرامات کے بارے میں پُر اسرار قصے سناتے رہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ لوگ بہت دنوں سے مراری باپو کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کو اُن سے کون سی خاص سیکھ (learning) حاصل ہوئی۔ میں نے یہ سوال اُن میں سے ہر ایک سے کیا، لیکن اُن میں سے کوئی بھی اس سوال کا متعین جواب نہ دے سکا، بس یہ کہا کہ یہ سمجھ لیجئے کہ ہم لوگوں کو آنند ہی آنند مل رہا ہے۔ گرو جی کو دیکھتے ہی ہماری آتما گدگد ہو جاتی ہے۔
میرا تجربہ ہے کہ خود مسلمانوں کا حال بھی یہی ہے۔ وہ لوگ جو مسلم تحریکوں اور مسلم شخصیتوں سے جڑے ہوئے ہیں، جو اُن کے اجتماعات میں شریک ہوتے رہتے ہیں، اُن سے میں اکثر یہ پوچھتا رہتا ہوں کہ آپ کو وہاں جانے سے کیا چیز ملی، آپ نے وہاں کیا خاص سبق سیکھا۔ مگر کسی شخص کے پاس کوئی خاص بات بتانے کے لیے نہیں ہوتی۔ ہر ایک ایسی بولی بولتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہاں جانے سے ہمارے دل کے اندر نور پیدا ہوا، وہاں جانے سے ہماری روح کو سکون حاصل ہوا، وغیرہ۔ اس قسم کے تاثرات جو ہندو اور مسلمان دونوں بتاتے ہیں، وہ بلا شبہہ بے حقیقت ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues