Doing Dawah work by the support of Madʻu.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۰
اس لیے کہ میں اس قسم کے سوالات جس سے کرتا ہوں، وہ ایک انسان ہوتا ہے۔ انسان ایک شعوری مخلوق (conscious being) ہے۔ شعور ہی انسان کے وجود کی اصل ہے۔ اس لیے انسان کے لیے پانا یہ ہے کہ وہ شعور کی سطح پر کچھ پائے۔ جو یافت شعوری یافت نہ ہو، وہ کسی حیوان کے لیے اہم ہوسکتی ہے، لیکن ایک انسان کی نسبت سے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ ایک انسان کے لیے کوئی چیز اس کی یافت صرف اس وقت بنتی ہے، جب کہ وہ شعور کی سطح پر اس کو ملے۔ جو چیز شعور کی سطح پر نہ ملے، اس کی حیثیت صرف ایک موہوم خیال کی ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کسی یافت کی۔
گجرات کے اس آشرَم میں قیام کے دوران بہت سے ہندوؤں سے ملاقات ہوئی۔ ہر ہندو کا حال یہ تھا کہ وہ ’’گروجی‘‘ کی بڑائی کا چرچا کرتا تھا۔ ہر ایک یہ سمجھتا تھا کہ اُس کو جو کچھ مل رہا ہے، وہ سب گروجی کے آشیرواد سے مل رہا ہے۔ کسی کو میں نے خدا کا چرچا کرتے ہوئے نہیں سنا۔ میں بہت سے آشرَموں میں گیا ہوں۔ ہر جگہ میں نے پایا کہ لوگ اپنے گروجی کی عظمت میں گم ہیں۔ گروجی سے اوپر کسی طاقت کی عظمت کی اُنھیں خبر نہیں۔
عجیب بات ہے کہ اس معاملے میں خود مسلمانوں کا حال بھی یہی ہے۔ مسلم جماعتوں اور مسلم اداروں میں ہر جگہ اپنے اکابر کا چرچا ہوتا ہے۔ کچھ شخصیتوں کو انھوں نے بڑا سمجھ لیا ہے اور ان کی بڑائی کا اظہار کر کے وہ خوش ہوتے رہتے ہیں۔ غالباً کوئی بھی مسلم جماعت یا مسلم ادارہ ایسا نہیں ہے، جہاں حقیقی معنوں میں خدا کی بڑائی کا چرچا کیا جاتا ہو۔
ایک بار میں ایک مشہور مسلم خانقاہ میں گیا۔ اس خانقاہ میں ذکر بالجہر کا رواج تھا۔ میں نے دیکھا کہ رات دن کے ہر حصے میں کوئی نہ کوئی شخص اللہ، اللہ کے الفاظ مخصوص انداز میں بول کر بظاہر خدا کا چرچا کر رہا ہے۔ مگر اس رسمی ذکر بالجہر کے سوا، وہاں کی مجلسوں میں انسانی اکابر کا چرچا ہوتا تھا۔ یہ انسانی اکابر اتنے زیادہ محترم سمجھے جاتے تھے کہ اُن کا نام لینا بھی بے ادبی تھی۔ جب بھی کسی شخص کو اُن کا حوالہ دینا ہوتا تھا تو ہمیشہ ’’حضرت‘‘ کا لفظ بول کر اُن کا حوالہ دیتا تھا، حتیٰ کہ بعض اوقات میرے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا تھا کہ ’’حضرت‘‘ سے کون شخص مراد ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues