Fragrance of our Religions in Context of Islam.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۱
اس اعتبار سے دیکھیے تو موجودہ زمانے میں مسلم اور غیر مسلم میں صرف نام کا فرق ہے (لا يبقى من الاسلام إلا اسمه)۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں ہی دین اکابر پر کھڑے ہوئے ہیں۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ غیر مسلموں کے پاس کوئی محفوظ الہامی کتاب موجود نہیں، جب کہ مسلمانوں کے یہاں محفوظ خدائی کتاب موجود ہے۔ یہاں ایک شخص ایسا کر سکتا ہے کہ وہ قرآن کو پڑھ کر یہ جان سکے کہ خدا کا وہ حقیقی دین کیا ہے جس کو اُس نے اپنے پیغمبر کے اوپر نازل کیا تھا۔ آشرم میں ایک ہندو تاجر سے ملاقات ہوئی۔ بظاہر وہ بہت مطمئن نظر آتے تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے اپنے گرو جی کی کئی کرامتیں بتائیں۔ یہ کسی ایک ہندو کی بات نہیں۔ تمام ہندو حتی کہ سیکولر ہندو بھی کسی گرو سے وابستہ ہوتے ہیں اور وہ ان کی کرامتیں بیان کرتے رہتے ہیں۔ اس معاملے میں ٹھیک یہی حال خود مسلمانوں کا بھی ہے۔ مسلمان بھی اولیاء کی کرامتوں اور پیغمبر کے معجزوں کے تصور میں گم رہتے ہیں۔ ان کو خدا کے اعلیٰ معجزات کی خبر نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اس کائنات میں سارا اختیار صرف خدا کو ہے۔ جو کچھ ہوتا ہے، وہ صرف خدا کے حکم کے تحت ہوتا ہے، حتی کہ جو معجزے کسی پیغمبر سے منسوب ہیں، وہ بھی خدا کے معجزے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک کھلا ہوا اندھا پن ہے کہ آپ معجزات انسانی میں گم رہیں اور معجزات خداوندی کو دریافت نہ کر سکیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ لوگ خدائی معجزات کو کسی انسان سے منسوب کر کے اُس انسان کی عظمت کا چرچا کرتے ہیں۔ خدا کی عظمتوں کو نہ انھوں نے دریافت کیا اور نہ اُن کی تقریروں اور تحریروں میں کہیں اُس کا چرچا دکھائی دیتا ہے۔
26 فروری 2009 کو یہاں کے جلسے میں میری تقریر تھی۔ مجھے ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا۔ یہاں ہر ایک کو یہ موضوع دیا گیا تھا کہ وہ اپنے مذہب کی روشنی میں اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ میری تقریر کا موضوع یہ تھا:
Fragrance of our Religions in Context of Islam.
اس جلسے میں راقم الحروف کے علاوہ اسٹیج پر تین اور صاحبان موجود تھے۔
Prof. Ramjee Singh, Dr. Rudolf Haredia, Prof. Narottam Palan
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues