Al-Risala · July 2009 · page 22

Fragrance of our Religions in Context of Islam.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۲

میں نے اپنی تقریر میں کلمۂ سواء کے اصول کے مطابق، اسلام کا مثبت تعارف پیش کیا۔ میں نے قرآن اور حدیث اور سیرتِ رسول کی روشنی میں بتایا کہ اسلام امن اور شانتی اور روحانیت کا مذہب ہے۔ اسلام میں کٹر پن اور تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، تمام مرد اور عورت ایک ماں باپ کی اولاد ہیں۔ وہ باہم ایک دوسرے کے لیے خونی بھائی (blood brothers) اور خونی بہن (blood sisters) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس جلسے کے صدر پروفیسر رام جی سنگھ تھے۔ سب سے پہلے انھوں نے تقریر کی۔ وہ میری تحریریں پڑھے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں بار بار میری تحریروں کا حوالہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتاب (True Jihad) کا مطالعہ کیا ہے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مولانا صاحب نے جہاد کی جو تشریح اپنی کتاب میں کی ہے، وہی اصل جہاد ہے، یعنی کسی اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد۔ میں اپنے اس مطالعے کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ اسلام امن اور شانتی کا مذہب ہے، اسلام میں تشدد اور دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ لوگوں سے کہوں گا کہ اگر آپ صحیح اسلام کو سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ مولانا صاحب کے لٹریچر کا مطالعہ کریں۔

پروفیسر رام جی سنگھ کے اس کھلے اعتراف کا اتنا اثر ہوا کہ پروگرام کے خاتمے پر جب اسٹیج سے یہ اعلان کیا گیا کہ یہاں راقم الحروف کی کتابیں موجود ہیں، جو لوگ دل چسپی رکھتے ہوں، وہ یہاں سے اُن کتابوں کو حاصل کرلیں ۔ اس اعلان کے بعد لوگ ہماری کتابوں پر ٹوٹ پڑے۔ ہمارے ساتھیوں کے ہمراہ اردو، ہندی اور انگریزی میں چھپے ہوئے دعوتی پمفلٹ اور کتابیں تھیں ۔ اسی کے ساتھ قرآن کا ہندی اور انگریزی ترجمہ بھی ان کے پاس تھا۔ حاضرین نے اس لٹریچر کو نہایت ذوق وشوق کے ساتھ لیا۔ پروگرام کے ہندو منتظمین نے ہمارے ساتھیوں سے کہا کہ آپ لوگ زحمت نہ کریں، ہم خود لوگوں تک ان کتابوں کو پہنچائیں گے ۔ چناں چہ وہ لوگ حاضرین کے پاس جاکر شوق سے انھیں دعوتی لٹریچر دے رہے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page