Fragrance of our Religions in Context of Islam.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۳
لوگوں کے شوق کا یہ حال تھا کہ تھوڑی ہی دیر میں کتابوں کے کئی پیکٹ ختم ہو گئے۔ ہمارے ساتھیوں کے پاس قرآن کے جو نسخے تھے، وہ بھی سب حاضرین کے درمیان تقسیم ہو گئے۔ لوگ سب سے زیادہ جو چیز مانگ رہے تھے، وہ قرآن کا انگریزی ترجمہ تھا۔ قرآن کے انگریزی ترجمے کے نسخے ختم ہونے کے بعد بہت سے لوگوں نے ہمارے ساتھیوں کو اپنا پتہ نوٹ کرایا۔ انھوں نے کہا کہ آپ دہلی جا کر ہم کو قرآن کا انگریزی ترجمہ بھیجیں۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ ہم براہ راست قرآن کو پڑھیں۔ ہمارے ساتھیوں نے جلسے کے خصوصی مہمانوں کو دعوتی پمفلٹ اور قرآن کے انگریزی ترجمے کے علاوہ، اُنھیں حسب ذیل کتابیں دیں:
The Ideology of Peace The True Jihad پروفیسر رام جی سنگھ حاضرین کے نزدیک اُن کے بڑے کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُن کے اِس اعتراف کے بعد لوگوں نے راقم الحروف کی کتابوں کے معاملے میں جس ذوق وشوق کا اظہار کیا، اُس میں ایک بہت بڑا سبق موجود ہے۔ وہ یہ کہ کسی قوم کے بڑوں کا اعتراف اُس کے چھوٹوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے، اور اُن کے بڑوں کی بے اعترافی ان کے چھوٹوں کے لیے بھٹکاؤ کا ذریعہ۔ قرآن کے مطابق ، سچائی کے معاملے میں بڑوں کی خاموشی اُنھیں دہرے عذاب (الأحزاب: 68) تک پہنچانے والی ہے، وہ ہرگز اُنھیں نجات دلانے والی نہیں۔
اِس جلسے میں مراری باپو بھی موجود تھے۔ وہ حاضرین کے ساتھ فرش پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میری تقریر سے پہلے اپنے طریقے کے مطابق، انھوں نے مجھ کو ہاتھ کے ذریعہ کتے ہوئے سوت کی مالا اور دستی طور پر بنی ہوئی سوتی چادر اڑھائی۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ وہ اچانک میرے پاس آئیں اور مجھ کو مالا پہنا دیں۔ اس کے برعکس، انھوں نے یہ کیا کہ پہلے میرے ساتھیوں سے اجازت لی۔ اس کے بعد انھوں نے مجھ کو مالا پہنایا اور چادر اڑھائی۔ میں نے اُسی وقت اُن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مالا اور چادر اتار کر اپنے ساتھی کو دے دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues