Fragrance of our Religions in Context of Islam.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۴
بعض لوگ اِس قِسم کی چیزوں کو مذہبی نوعیت کی چیز سمجھتے ہیں اور اِس سے اُنھیں محسوس ہوتا ہے کہ اُن کا ایمان خطرہ میں ہے۔ مگر یہ سرتا سرا یک نادانی کی بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس طرح کی چیزوں کا تعلق مذہب سے نہیں ہے، بلکہ وہ کلچرل نوعیت کی چیزیں ہیں۔ اور کلچرل نوعیت کی چیزوں کے بارے میں اسلام کا اصول تالیف قلب ہے، نہ کہ کٹر پن۔ ایک داعی کو چاہیے کہ وہ اِس قِسم کی چیزوں کو تالیف قلب کے طور پر قبول کرے۔ یہی دعوت کا تقاضا ہے۔
تجارتی اخلاقیات میں جس چیز کو کسٹمز فرینڈلی بہیوئر(customer-friendly (customer-friendly behaviour) کہا جاتا ہے، دعوتی اخلاقیات میں اُسی کو تالیف قلب کہا جاتا ہے، یعنی مدعو فرینڈلی بہیوئر (mad‘u-friendly behaviour)۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تالیفِ قلب ایک ابدی اصول ہے۔ آپ کی زندگی میں تالیف قلب کی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً حدیبیہ کے موقع پر قریش کے سردار حلیس بن علقمہ کی آمد پر قربانی (ھَدْی) کے جانوروں کے ذریعے ان کا استقبال کرنا، واضح طور پر تالیفِ قلب کا ایک واقعہ تھا۔
آشرَم کے تجربے کے تحت میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تالیفِ قلب کوئی وقتی چیز نہیں، وہ دعوت کا ایک ابدی اصول ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ عملی اعتبار سے پچانوے فی صد تالیف قلب ہے، اور پانچ فی صد دعوہ ورک۔ مزید یہ کہ تالیف قلب کسی ایک چیز کا نام نہیں۔ اس کی سیکڑوں صورتیں ہیں۔ اگر آپ کے اندر دعوت کا درد ہے تو آپ خود بخود ہر موقع کے لحاظ سے تالیف قلب کا اصول جان لیں گے۔
میں نے کہا کہ غزوۂ حنین (8 ہجری) کے بعد کچھ لوگوں کو تالیف قلب کے طور پر بھیڑ بکری اور اونٹ دئے گئے تھے۔ یہاں کے آشرَم میں اگر آپ بھیڑ بکری اور اونٹ کا تحفہ لائیں تو یہاں کے لوگ اُس کو ایک مسئلہ (problem) سمجھیں گے اور تالیف قلب کا مقصد حاصل نہ ہوگا۔ اس کے بجائے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے یہاں ایسا ہوا کہ ان کے اسٹیج سے مجھے ایک گھنٹہ کی تقریر
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues