Doing Dawah work at the cost of mad‘u.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۵
کرنے کا موقع ملا۔ میں نے یہ تقریر تالیف قلب کے اصول پر کی۔ اس کا اثر اتنا زیادہ ہوا کہ ہم جو دعوتی لٹریچر کئی کارٹن میں پیک کر کے یہاں لائے تھے، اُس کو خود انھیں لوگوں نے ہم سے لے کر سب کے درمیان تقسیم کیا۔ اگر آپ تالیف قلب کی اس حکمت کو سمجھ لیں تو آپ دورِ جدید کا ایک عظیم امکان دریافت کریں گے، اور وہ ہے مدعو کی قیمت پر دعوہ ورک کرنا:
Doing Dawah work at the cost of mad‘u.
تالیف قلب دراصل بالواسطہ انداز میں دعوہ ورک ہے۔ پہلے بالواسطہ دعوہ ورک کیا جاتا ہے، اس کے بعد یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ براہِ راست زیادہ مؤثر طور پر دعوہ ورک کیا جاسکے۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ مصلحت اور دعوتی حکمت میں بہت بڑا فرق ہے۔ مصلحت اُس فعل کا نام ہے جو دنیوی مفاد کے لئے کیا جائے۔ اس کے برعکس، دعوتی حکمت یہ ہے کہ دعوت کو فروغ دینے کے لیے دانش مندی کا کوئی طریقہ اختیار کیا جائے۔ مصلحت ذاتی مفاد کے لیے ہوتی ہے، اور حکمت دعوہ ورک کی ترقی کے لیے۔
26 فروری 2009 کے جلسے میں میری تقریر تھی۔ اس جلسے میں احمد آباد اور اطراف کے کچھ مسلمان بھی شریک تھے۔ تقریر کے بعد ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے مجھ سے کہا کہ آپ نے یہاں اسلام کو اس کی مکمل صورت میں پیش نہیں کیا۔ آپ کو چاہئے تھا کہ آپ ان لوگوں کے سامنے اسلام کو اس کی ٹوٹیلٹی (totality) میں پیش کرتے، تاکہ حاضرین کو اسلام کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہو سکتیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات آپ خود اپنے ذہنی معیار کی بنا پر کہہ رہے ہیں۔ قرآن اور حدیث کے مطابق، یہ بات درست نہیں۔ اس نظر سے آپ قرآن اور حدیث کا مطالعہ کیجئے تو آپ پائیں گے کہ دعوتی کلام ہمیشہ حقیقی صورت حال کے مطابق ہوتا ہے، نہ کہ فہرست احکام کے مطابق۔ اگر فہرست احکام کے مطابق دعوت مطلوب ہوتی تو قرآن 23 سال کے دوران نجماً نجماً نہ اترتا، بلکہ پورا قرآن بیک وقت اتار دیا جاتا۔
26 فروری 2009 کو ای ٹی وی اردو (ETV Urdu) کی ٹیم نے راقم الحروف کا ایک
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues