Al-Risala · July 2009 · page 26

Doing Dawah work at the cost of mad‘u.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۶

انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کے دوران جو سوالات کیے گئے، اُن میں سے ایک سوال یہ تھا کہ لوک سبھا کا الیکشن قریب ہے۔ اس موقع پر آپ مسلمانوں کو کیا مشورہ دیں گے۔

میں نے کہا کہ میرا مشورہ یہ ہے کہ مسلمان اس معاملے میں اپنی سابقہ سیاسی روش کو چھوڑیں اور نئی سیاسی روش اختیار کریں۔ میں نے کہا کہ مسلمان اب تک یہ کرتے رہے ہیں کہ وہ ہمیشہ منفی نیگیٹو ووٹنگ (negative voting) کرتے ہیں، یعنی کسی پارٹی کو اینٹی مسلم (anti-Muslim) قرار دے کر اُس کو ووٹ نہ دینا، اور کسی پارٹی کو پرومسلم (pro-Muslim) قرار دے کر اس کو ووٹ دینا۔ مسلمانوں کو اس معاملے میں جمہوری طریقہ اختیار کرنا چاہئے، نہ کہ فرقہ وارانہ طریقہ۔ اسی غلط ذہن کی وجہ سے مسلمان اب تک انڈیا کے جمہوری نظام سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے خلاف تقریر کرتے ہیں، حالاں کہ اُن کو خود اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔

جلسہ کے خاتمے پر ہم لوگ آ شرم کے مہمان خانے میں آگئے۔ یہاں ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ظہر کی با جماعت نماز ادا کی۔ نماز کے بعد میں نے اپنے ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عبادت کے بارے میں حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: تعبد الله كأنك تراه۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اُس کو دیکھ رہے ہو۔ میں نے کہا کہ اس حدیث میں رؤیت کا لفظ ہے۔ لیکن رویت سے مراد رویت عینی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد نفسیاتی رویت ہے۔ یہ ایک لطیف روحانی تجربہ ہے، نہ کہ سادہ معنوں میں کوئی مشاہداتی تجربہ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ بندے پر خدا کی موجودگی (presence of God) کا تجربہ اتنا شدید ہو کہ اُس کو ایسا محسوس ہونے لگے جیسے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔

دعوت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن کی سورہ نمبر 3 میں دعوت کے اسلوب کو بتاتے ہوئے کلمہ سواء (آل عمران: 64) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ دعوت کا ایک اہم اصول ہے۔ ہمارے مفسرین نے عام طور پر اس کو محدود طور پر اہل کتاب سے متعلق قرار دیا ہے۔ مگر یہ ایک حکیمانہ تعلیم ہے اور اُس کا تعلق عمومی طور پر داعی اور مدعو سے ہے، نہ کہ محدود طور پر صرف پیغمبر اسلام

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page