Doing Dawah work at the cost of mad‘u.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۷
کے معاصر اہل کتاب سے۔ اس سے مراد صرف کلمۂ سواء بین الیہود و المسلمین نہیں ہے، بلکہ اُس کا تعلق کلمۂ سواء بین الداعی والمدعو سے ہے۔
اس کنونشن میں ہماری ملاقات مہاد یو دیسائی کے بیٹے نارائن مہاد یو دیسائی (پیدائش 1924) سے ہوئی۔ نارائن دیسائی نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل گجراتی زبان میں ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کا نام یہ ہے۔ باپو کی گود میں۔ نارائن دیسائی نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل گجراتی زبان میں ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کا نام یہ ہے۔ باپو کی گود میں۔
مہاد یو دیسائی (وفات: 1942) ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھے۔ وہ اپنا کام چھوڑ کر مہاتما گاندھی کے سیکرٹری بن گئے۔ وہ لمبی مدت تک سیوا گرام (مہاراشٹر) میں مہاتما گاندھی کے ساتھ رہے۔ مسٹر دیسائی سے میری ملاقات شام کے وقت کھانے کی میز پر ہوئی۔ اس ملاقات میں ان کے سوا جسٹس ادھکاری بھی وہاں موجود تھے۔ میں نے مسٹر نارائن دیسائی سے پوچھا کہ آپ نے مہاتما گاندھی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ان کی کوئی خاص بات بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ 1946 میں مشرقی بنگال (نو اکھلی) کے علاقے میں فرقہ وارانہ فساد پھیل گیا۔ اُس وقت مہاتما گاندھی دہلی سے نواکھلی گئے اور گاؤں گاؤں دورہ کرکے لوگوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ اُس وقت انھوں نے گجرات کے ایک کانگریس ورکر کے نام ایک خط لکھا تھا۔ یہ تاریخی خط اب تک محفوظ ہے۔ اس خط میں مہاتما گاندھی نے لکھا تھا— میں جہاں ہوں، وہاں ہر طرف آگ اور خون کا منظر ہے، لیکن میرے من میں شانتی ہے۔
گجرات کی ریاست بحر عرب کے ساحل پر واقع ہے۔ مہوا سے ساحل بہت قریب تھا، یعنی کار کے ذریعے پندرہ منٹ کا راستہ۔ 26 فروری 2009 کی شام کو ہم لوگ ساحل پر گئے۔ ہم لوگ وہاں کچھ دیر ٹھہر کر سمندر کا منظر دیکھتے رہے۔ ساحل پر ایک تاریخی مندر ہے۔ اس کو بھوانی کا مندر کہا جاتا ہے۔ ہمارے ساتھیوں نے ساحل پر لوگوں کو دعوتی لٹریچر مطالعے کے لیے دیا۔ یہاں کئی چھوٹے چھوٹے ہوٹل اور کچے ناریل کی دکانیں تھیں ۔ ہمارے ساتھ آ شرم کے ایک کارکن ناتھ جی تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues