Al-Risala · July 2009 · page 28

Doing Dawah work at the cost of mad‘u.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۸

وہ ہمارے ساتھیوں سے ہندی پملفلٹ (ستیہ کی کھوج) لے کر ساحل پر موجود دکان داروں اور وہاں کے مندر میں موجود زائرین کو دے رہے تھے۔

سمندر کو دیکھنے کے بعد میرے ایک ساتھی نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے خدا کی عظمت و کبریاُئی کے اظہار کے لیے جو الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں، وہ صرف خدا کی تصغیر (underestimation) کے ہم معنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کی عظمت اس سے بہت زیادہ ہے کہ الفاظ کا کوئی ذخیرہ اُس کا احاطہ کر سکے۔

ہم لوگ ساحل سے مہوا کے آشرم میں لوٹے تو مغرب کا وقت ہو رہا تھا۔ ہم لوگوں نے یہاں جماعت کے ساتھ نماز ادا کی۔ نماز کے بعد میرے ایک ساتھی نے کہا کہ آج جب میں نے نماز کی نیت باندھنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھاتے ہوئے اللہ اکبر کہا تو ایسا محسوس ہوا جیسے خدا کی عظمت اور اس کی کبریاُئی کا دائرہ لامحدود حد تک وسیع ہو گیا ہے۔ ٹھاٹھیں مارتا ہوا بحرِ بے کراں میری نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔ میں نے سوچا کہ وہ خدا کتنا عظیم ہوگا جو اس سمندر کا خالق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ محدودیت کے ساتھ خدا کی لامتناہی عظمت کا تصور نہیں کر سکتا۔

آشروم میں میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو ایک برائی سے بہت زیادہ بچنا ہے۔ یہ بے اعترافی کی برائی ہے۔ موجودہ زمانہ میں بے اعترافی کا مزاج اتنا زیادہ عام ہو چکا ہے کہ تقریباً ہر آدمی بے اعترافی کی نفسیات میں جیتا ہے۔ لوگ اس معاملے میں اتنا زیادہ کنڈیشنڈ ہو گئے ہیں کہ اُن کو یہ احساس بھی نہیں کہ بے اعترافی ایک مہلک برائی کی حیثیت رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر میں نے پایا ہے کہ جب ایک تنظیم یا ادارہ کوئی سیمنار یا کانفرنس کرتا ہے تو وہ اُس میں شرکت کے لیے مختلف لوگوں کو دعوت دیتا ہے۔ ان لوگوں کے لیے ہر قسم کا انتظام کیا جاتا ہے۔ کانفرنس کے شرکاء جب اس کا ذکر کرتے ہیں تو عام طور پر اُن اجزا کا ذکر کرتے ہیں جن میں خود ان کی اپنی شان بڑھتی ہو ۔ مثلاً ائر پورٹ پر شان دار استقبال۔ مگر جہاں تک منتظمین کا ذکر ہے، اُن کا حقیقی اعتراف میں نے لوگوں کی تحریر و تقریر میں نہیں پایا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page