Al-Risala · July 2009 · page 29

Doing Dawah work at the cost of mad‘u.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۹

اس معاملے پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ لمبی مدت تک ایک خاص طرح کی زندگی گزارتے ہوئے لوگ اب بے اعترافی سے اتنا زیادہ مانوس ہو چکے ہیں کہ بے اعترافی اُن کے لیے معمول کی ایک چیز بن چکی ہے۔ بے اعترافی کا کلمہ بولتے ہوئے اُنہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کوئی غلط بات بول رہے ہیں۔ بے اعترافی کے الفاظ اُن کے لیے اُسی طرح سہل الادا ہوگئے ہیں جس طرح کسی کے لیے تکیہ کلام۔ اس برائی سے بچنے کا ایک طریقہ ہے، وہ یہ کہ اپنا اتنا زیادہ محاسبہ (introspection) کیا جائے کہ اعتراف آدمی کے لیے مانوس چیز بن جائے، اور بے اعترافی اس کے لیے ایک نامانوس چیز۔

اس کنونشن میں مقامی لوگوں کے علاوہ بیرونی مقامات کے بہت سے لوگ آئے تھے۔ جاتے ہوئے انھوں نے ہمارے ساتھیوں سے یہ کہہ کر مزید لٹریچر حاصل کیا کہ ہم اس کو اپنے مقام پر لوگوں کو پڑھنے کے لیے دیں گے۔ اس طرح یہ اسلامی لٹریچر بالواسطہ طور پر بہت سے دوسرے مقامات کے لوگوں تک پہنچ گیا۔

ایک نشست میں بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عام طور پر موجودہ زمانے کے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ اسلام کو’’اغیار‘‘ کی طرف سے خطرہ ہے۔ وہ تحفظِ اسلام کے نام پر بڑی بڑی کانفرنسیں کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کی باتوں کا خدا کے دین سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اپنے آخری دین کی حفاظت کی ذمہ داری خود لے لی ہے۔ ایسی حالت میں خطرہ اگر ہو سکتا ہے تو وہ خود مسلمانوں کو ایک گروہ کی حیثیت سے ہو سکتا ہے۔ اسلام کو خدا کا آخری دین ہونے کی حیثیت سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان خود اپنے قومی خطرے کی طرف منسوب کر کے یہ کہتے ہیں کہ خدا کے دین کو خطرہ ہے۔ مگر یہ بات مضحکہ خیز حد تک خلاف واقعہ ہے۔ مسلمان جس چیز کو ملی خطرہ کہتے ہیں، اس کا واحد حل صرف دعوت الی اللہ ہے۔ اگر وہ دعوت الی اللہ کی ذمے داری کو درست طور پر ادا کرنے لگیں تو’’خطرہ‘‘ کا تصور اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page