Al-Risala · July 2009 · page 30

Doing Dawah work at the cost of mad‘u.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۰

میں نے اس سلسلے میں اپنے تین دعوتی تجربات کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ گزشتہ چار مہینوں میں میں نے تین مقامات کا سفر کیا ہے اور تین مذاہب کی کانفرنس میں شرکت کی ہے۔ فلسطین میں یہودیوں کی طرف سے منعقد ہونے والی کانفرنس (اکتوبر 2008)، قبرص میں عیسائیوں کی طرف سے منعقد ہونے والی کانفرنس (نومبر 2008)، اور یہاں گجرات میں ہندوؤں کی طرف سے منعقد ہونے والی موجودہ کانفرنس (فروری 2009)۔ ان تینوں مقامات پر میں نے اور میرے ساتھیوں نے کھلے طور پر اسلامی دعوت کا کام کیا۔ مگر کسی مقام پر ہم کو نہ کسی تعصب کا سامنا کرنا پڑا اور نہ کسی مخالفت کا، بلکہ ہر جگہ ہمارے ساتھ مکمل تعاون کا معاملہ کیا گیا۔

اس قسم کا تجربہ مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو بار بار پیش آیا ہے۔ میں نے اس کے سبب پر غور کیا۔ میری سمجھ میں آیا کہ ایسا معاملہ ہمارے ساتھ کسی اتفاق کے نتیجے میں پیش نہیں آیا، بلکہ یہ تمام تر روح عصر (spirit of the age) کے نتیجے میں پیش آیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مذہبی رواداری (religious tolerance) ایک مسلمہ جمہوری اصول (democratic norm) بن چکا ہے۔ آج کا انسان اس بات کا تحمل نہیں کر سکتا کہ اُس پر مذہب کے معاملے میں عدم رواداری کا الزام لگایا جائے۔ اس قسم کا الزام اُس کے لیے اپنی حیثیت عرفی کو کھونے کے ہم معنی ہے۔ اس لیے جب آج کا انسان کسی دوسرے مذہب کے لوگوں کے ساتھ رواداری کا سلوک کرتا ہے تو وہ خود اپنی حیثیت عرفی کو ثابت شدہ بنانا ہے۔

جو لوگ اس معاملے کی حقیقت نہیں سمجھتے، وہ اپنی بے خبری کی بنا پر اس طرح کے معاملے کو سازش کا معاملہ سمجھنے لگتے ہیں، حالاں کہ اس طرح کے معاملے کو سازش کہنا خود اپنی بے خبری کا اعلان ہے، نہ کہ دوسرے کے بارے میں کسی حقیقت کا اظہار۔ ایسے لوگوں کے بارے میں صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ نہ اُن کے اندر خدا کا اتنا خوف ہے کہ وہ خدا کی پکڑ کے اندیشے سے چپ رہیں، اور نہ اُن کے پاس اتنی عقل ہے کہ وہ اس معاملے کو اس کی اصل حقیقت کے اعتبار سے سمجھ سکیں۔ ایک مسلمان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل کے مسلمان عام طور پر دوسری

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page