Doing Dawah work at the cost of mad‘u.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۱
قوموں کو اپنا دشمن بتاتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں۔ مگر یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس لیے کہ اس قسم کی سوچ ایک قیمت چاہتی ہے۔ اگر آپ وہ قیمت ادا نہ کریں تو آپ کو منافقت کا طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے، یعنی ایک چیز کو برا مانتے ہوئے ذاتی مفاد کی بنا پر اس کے ساتھ مصالحت کر لینا۔ میں نے کہا مثال کے طور پر ساری دنیا کے مسلمان امریکا کو اسلام کا دشمن نمبر ایک سمجھتے ہیں، اس کے باوجود امریکا میں تقریباًً سب ملیں مسلمان رہ رہے ہیں۔
میں نے امریکا میں مقیم ایک پاکستانی مسلمان سے کہا کہ آپ لوگ امریکا کو اسلام کا دشمن بتاتے ہیں اور پھر یہیں آکر رہتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو روزی کا معاملہ ہے۔ آدمی کی روزی جہاں لکھی رہے گی، وہاں وہ جائے گا۔ میں نے کہا کہ خدا نے آپ کی روزی ’’پاک لینڈ‘‘ میں نہیں لکھی، اُس نے آپ کی روزی ’’ناپاک لینڈ‘‘ میں لکھ دی—یہی موجودہ زمانے میں تقریباًً تمام مسلمانوں کا مزاج ہے۔
یہاں ماہ نامہ الرسالہ کے ایک قاری سے ملاقات ہوئی ۔ وہ بنگلور کے رہنے والے ہیں۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ لمبی مدت سے الرسالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں، یہ بتائیے کہ آپ کو اس مطالعے سے کیا ملا۔ انھوں نے کہا کہ اگر میں مختصر الفاظ میں اس کا جواب دوں تو وہ یہ ہوگا کہ الرسالہ کے مطالعے سے پہلے میں بے شعوری کی زندگی گزار رہا تھا، الرسالہ کے مطالعے کے بعد میں شعور کی طرف آیا ہوں۔ الرسالہ کا مطالعہ میرے لیے ایک ذہنی سفر تھا، یعنی بے شعوری سے شعور کی طرف سفر۔ شعوری زندگی کا حصول ہر آدمی کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ بے شعور آدمی ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کہ کوئی حیوان۔ وہ اپنے فطری تقاضوں کے تحت کماتا ہے اور کھاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں، باشعور انسان ہی حقیقی انسان ہے۔ یہ صرف شعور ہے جو ایک انسان کو حیوانات سے الگ کرتا ہے۔ بے شعوری کی زندگی یہ ہے کہ آدمی ما ألفينا عليه آبائنا (البقرۃ: 170) کی سطح پر جیتا ہو۔ ماحول سے اُس نے جو کچھ سیکھا، آس پاس کی دنیا سے اُس کو جو باتیں ملیں، اُن کو وہ مانتا چلا گیا۔ ایسا انسان اپنے ماحول کی پیداوار ہوتا ہے۔ ایسے ہی انسان کو بے شعور انسان کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues