Al-Risala · July 2009 · page 32

Doing Dawah work at the cost of mad‘u.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۲

با شعور انسان وہ ہے جو خود اپنے شعور کی تربیت کرے، جو براہ راست مطالعے کے ذریعے چیزوں کو جانے، جو سوچے سمجھے فیصلے کے تحت دنیا میں زندہ رہنا سیکھے۔ دین اور دنیا دونوں اعتبار سے یہی با شعور انسان حقیقی معنوں میں انسان کی حیثیت رکھتا ہے۔ با شعور انسان کو دوسرے لفظوں میں سیلف میڈ مین (self-made man) کہا جا سکتا ہے۔

با شعور زندگی کا تعلق دین سے بھی ہے اور دنیا سے بھی۔ دین کے اعتبار سے دیکھیے تو زندہ عقیدہ اور زندہ عبادت اور زندہ اخلاق صرف اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ آدمی بے شعوری سے نکل کر اپنے آپ کو با شعور بنا چکا ہو۔ شعوری دریافت کے بغیر دین صرف بے روح رسموں کا مجموعہ ہے، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہی معاملہ دنیا کے اعتبار سے بھی ہے۔ بے شعور آدمی ہمیشہ شکایتوں میں جیتا ہے۔ وہ کبھی ترقی نہیں کر پاتا۔ اِس کے برعکس، با شعور آدمی شکایتوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے، وہ مثبت شعور کے تحت اپنے عمل کی منصوبہ بندی کر کے اعلیٰ کامیابی تک پہنچ جاتا ہے۔

مہوا کے اِس آشرم میں بہت سے ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو اپنے گرو کی زیارت کے لیے آئے تھے۔ یہ لوگ اکثر اِس طرح کے جملے بولتے تھے کہ ہم کو جو کچھ ملا ہے، وہ گرو جی کی کرپا سے ملا ہے۔ ٹھیک یہی مثال خود مسلمانوں میں پائی جاتی ہے۔ وہ مسلمان جو کسی درگاہ سے یا کسی بزرگ سے وابستہ ہیں، وہ بھی اِس قسم کے الفاظ کہتے ہیں کہ ہم کو جو کچھ ملا ہے، وہ سب حضرت کی دعاؤں کے طفیل ملا ہے۔ یہ ایک مشترک گمراہی ہے جو ہندو اور مسلمان دونوں میں مشترک طور پر پائی جاتی ہے۔ دنیوی چیزیں ہر ایک کو ملتی ہیں۔ جو شخص بھی اِس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، اُس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام مادی چیزیں دی جاتی ہیں، کیوں کہ ان مادی چیزوں کے بغیر کسی کا امتحان ممکن نہیں۔ مادی چیزوں کو پرچہ امتحان کے بجائے بزرگوں کا فیض سمجھ لینا بلاشبہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے شرک ہے۔ مزید یہ کہ اِس قسم کی سوچ ہمیشہ ذہنی جمود پیدا کرتی ہے۔ جس ماحول میں اِس قسم کی سوچ ہو، وہاں ذہنی ارتقا کا عمل رک جائے گا۔

ایک صاحب نے سوال کیا کہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں کو اپنے بزرگوں سے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page