Doing Dawah work at the cost of mad‘u.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۳
والہانہ محبت ہوتی ہے، ایسی محبت جس کا مشاہدہ خدا کے معاملہ میں نظر نہیں آتا۔ ایسا کیوں ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے فطرت میں چھپے ہوئے ربانی جذبات کو کسی غیر خدا سے منسوب کر لینا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان کی فطرت میں خدا کی طلب بے پناہ حد تک موجود ہوتی ہے۔ لیکن قلتِ معرفت کی بنا پر وہ خدا کی غیر مشہود عظمت کو دریافت نہیں کر پاتا، اس لیے وہ انسان کی مشہود عظمت کو اپنا مرکز تو جہ بنا لیتا ہے۔ وہ قرآن کے الفاظ میں، یحبونهم كحبّ الله (البقرہ: 165) کا مصداق بن جاتا ہے۔
گجرات جانے سے پہلے کنونشن کے مقامی ذمے داروں سے ہمارے ساتھیوں نے وہاں کے موسم کے بارے میں پوچھا، انھوں نے بتایا کہ اس وقت گجرات میں بہت گرمی ہو رہی ہے۔ پھر بھی ہم لوگوں نے احتیاطاً اپنے ساتھ گرم کپڑے رکھ لیے۔ وہاں جانے پر معلوم ہوا کہ رات میں وہاں سردی ہو رہی ہے۔ مقامی لوگوں کے کہنے پر اگر ہم لوگ اپنے ساتھ گرم کپڑے نہ رکھتے تو ہمیں سردی کا سامنا کرنا پڑتا۔ میرا تجربہ ہے کہ اکثر لوگوں کا مشاہدہ بہت کم زور ہوتا ہے۔ وہ اس طرح کے معاملات میں درست رائے نہیں دے پاتے۔ میرے تجربے کے مطابق، لوگ یا تو بات کو گھٹا کر کہتے ہیں یا وہ بات کو بڑھا کر کہتے ہیں۔ ٹھیک ٹھیک رائے دینا ایک نادر صفت ہے، اور یہ نادر صفت بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ لوگ ایسا بھی نہیں کرتے کہ وہ صاف طور پر کہہ دیں کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ لوگوں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ صرف بولنا جانتے ہیں۔ چپ رہنا بھی ایک عمل ہے، لیکن لوگ عام طور پر عمل کی اس قسم سے بالکل بے خبر ہیں۔
کیلاش آشرم کے چاروں طرف ناریل کے ہرے بھرے درخت دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ بظاہر ایسا معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ان درختوں کے درمیان کوئی بستی موجود ہے۔ عشاء کے وقت اذان کی آواز سنائی دی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہاں ہمارے بالکل پڑوس میں ایک بستی ہے۔ اس کا نام مہوا ہے۔ مہوا کو گجرات کا کشمیر کہا جاتا ہے۔ وہ اپنے قدرتی حسن اور فطری مناظر کی وجہ سے کافی مشہور ہے۔ 27 فروری 2009 کو مولانا محمد ذکوان ندوی نے یہ پروگرام بنایا کہ وہ فجر کی نماز مہوا میں
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues