Al-Risala · July 2009 · page 34

Doing Dawah work at the cost of mad‘u.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۴

ادا کریں گے۔ چناں چہ وہ ایک مقامی ساتھی حافظ محمد شبیر صاحب (برم گاؤں) کو اپنے ساتھ لے کر فجر کے وقت مہوا گئے۔ وہاں انھوں نے مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اُن کو دعوتی لٹریچر دیا۔ مہوا میں 14 مسجدیں ہیں۔ یہاں ہندواور مسلم دونوں طبقے کے لوگ باہم محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں۔ مولا نا محمد ذکوان ندوی نے مہوا کی مختلف مسجدوں میں جا کر ان کے ائمہ سے ملاقات کی، اور اُن کو مطالعہ کے لئے ماہ نامہ الرسالہ کے متفرق شمارے اور تذکیر القرآن (اردو) دیا۔ مقامی لوگوں نے ہمارے ساتھیوں کے ساتھ بے حد خلوص اور محبت کا سلوک کیا۔

ان میں سے ایک یادگار ملاقات وہ تھی جو مہوا کی جامع مسجد کے امام مولاناعبدالواحد پالن پوری سے ہوئی۔ مہوا کی جامع مسجد ایک کشادہ اور وسیع مسجد ہے۔ وہ سنگڑ یا بازار میں چوک کے قریب واقع ہے۔ مولانا عبدالواحد صاحب ایک سنجیدہ انسان ہیں۔ یہاں ان کا بہت اثر ورسوخ ہے۔ انھوں نے ہمارے ساتھی کا بھر پور تعاون کیا اور مہوا کی مختلف مسجدوں میں’’تذکیر القرآن‘‘ پہنچانے میں ہماری مدد کی۔ روانگی سے قبل مہوا کے علماء اور ائمہ حضرات آشرم میں ہم لوگوں سے ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے الرسالہ مشن سے اپنی گہری دل چسپی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ وقت کی آواز ہے اور ہم اس آواز کو دوسروں تک پہنچائیں گے۔

میں نے کہا کہ مسلم ملت آج ایک بڑی ملت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اُس کے افراد کی تعداد ایک بلین سے زیادہ ہے۔ ملت کے اندر مختلف قسم کے کام مطلوب ہیں ۔ مثلاً تعلیم ، دعوت ، دینی اصلاح، اصلاح ذات البین، وغیرہ۔ ان میں سے ہر کام کی اہمیت ہے اور یہ بالکل فطری بات ہے کہ ملت کے اندر مختلف حلقے اور تنظیمیں ہوں جو مختلف دائرے میں اپنی ذمے داریاں انجام دیں۔ اس طرح کی تقسیم کار (division of work)بالکل فطری ہے اور ملت کی مجموعی اصلاح کے لیے ضروری ہے۔ لیکن اس معاملے کو بہتر طور پر انجام دینے کے لیے ایک ضروری شرط ہے، وہ شرط ہے— باہمی اعتراف (mutual acknowledgement)۔

صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگ اپنے اپنے ممکن دائرے میں اپنی صلاحیت اور اپنے وسائل کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page