Al-Risala · July 2009 · page 35

Doing Dawah work at the cost of mad‘u.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۵

مطابق کام کریں ۔ ہر ایک اپنی ذمے داریوں کو انجام دے اور اسی کے ساتھ ہر ایک دوسرے کا اعتراف کرے ۔ باہمی اعتراف کے ساتھ تقسیم کار ، یہی اس معاملے میں صحیح اور قابلِ عمل طریقہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملت کی مجموعی ترقی کے لیے تقسیم کار کا اصول لازمی طور پر ضروری ہے۔ لیکن تقسیم کار کا اصول اُسی وقت مفید ہوسکتا ہے ، جب کہ ہر گروہ دوسرے کا اعتراف کرے ، ہر گروہ کے لوگوں میں دوسرے گروہ کے لیے خیر خواہی ہو ، ہر گروہ دوسرے گروہ کی اُسی طرح قدر دانی کرے جس طرح وہ خود اپنی قدر دانی چاہتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مختلف گروہوں کے درمیان اختلاف ختم ہو جائے گا۔ اختلاف فطرت کا ایک اصول ہے ، وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ۔ جو چیز مطلوب ہے ، وہ اختلافات کا خاتمہ نہیں ہے ، بلکہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا خیر خواہ ہونا ہے ، اختلاف کے باوجود متحد ہو کر کام کرنا ہے۔ جس طرح ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے ، اُسی طرح تقسیم کار کی بھی ایک قیمت ہے ، وہ قیمت یہ ہے ــــ کام کی تقسیم کے باوجود دلوں کی تقسیم نہ ہونا۔

آشرم کے قریب ایک بستی ہے۔ اُس کا نام مہوا ہے۔ اِسی بستی میں مراری باپو کا قیام رہتا ہے۔ بستی کے کچھ مسلمانوں نے بتایا کہ گودھرا فساد (2002) کے بعد گجرات کے مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ فساد شروع ہو گیا تھا۔ اِس موقع پر کچھ ہندو بلوائی مہوا بھی آگئے۔ وہ چاہتے تھے کہ یہاں بھی فساد ہو۔ اِس وقت مراری باپو نے بہت بڑا رول ادا کیا۔ وہ اپنے گھر سے نکل کر باہر آئے۔ انھوں نے فسادیوں کو سختی سے روکا ، اور کہا کہ تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ ، ہم اپنی بستی میں فساد نہیں ہونے دیں گے ۔ اس کے بعد وہ لوگ مایوس ہو کر مہوا سے چلے گئے۔

یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن اور حدیث میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کہا گیا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ تو اسٹیج سے عوامی خطاب کرنے کا نام ہے ، اور نہ وہ یہ ہے کہ حکومت پر قبضہ کرنے کے لیے سیاسی تحریک چلائی جائے اور یہ کہا جائے کہ ہم حکومت کے زور پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں ہی غیر متعلق طریقے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page