Doing Dawah work at the cost of mad‘u.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۶
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یہ ہے کہ متعین اور مشخص طور پر اس کام کو انجام دیا جائے_ پیش آمدہ صورت حال میں قوم کے سر بر آوردہ افراد کھڑے ہو جائیں۔ وہ موقع پر پہنچ کر کہیں کہ ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ تم کو ہر حال میں اپنے شر سے باز ہونا پڑے گا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام فوری طور پر اور متعین طور پر مداخلت کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ اس کام کا تعلق نہ تو اسٹیج کی تقریر سے ہے اور نہ سیاسی ہنگامہ آرائیوں سے۔
آج کل یہ حالت ہے کہ کہیں کوئی منفی واقعہ پیش آئے تو لوگ اخباری بیانات دیتے ہیں۔ ہندو لکھنے اور بولنے والے لوگ مسلمانوں کے خلاف لکھتے اور بولتے ہیں۔ اور مسلمان لکھنے اور بولنے والے لوگ ہندوؤں کے خلاف لکھتے اور بولتے ہیں ۔ اس قسم کی چیزیں سر تا سر لیڈری ہے۔ اُن کا کچھ بھی تعلق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے مطلوب کام سے نہیں۔ فرقہ وارانہ فساد کے موقع پر کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلم رہنما مسلمانوں کے مفسد عناصر کے خلاف بولیں، اور ہندو رہنما ہندوؤں کے مفسد عناصر کے خلاف بولیں ۔ اس طرح فرقہ وارانہ فسادات پر روک لگ سکتی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور صورت فرقہ وارانہ فسادات کو ختم کرنے والی نہیں۔
مسلمانوں کے درمیان لمبی مدت سے اصلاحِ معاشرہ کے نام پر تحریکیں چل رہی ہیں۔ لیکن ان تحریکوں کا عملاً کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ تحریکیں ہمیشہ عمومی انداز میں خطاب کرتی ہیں ۔ اصلاحِ معاشرہ کا کام کبھی بھی عمومی انداز میں مؤثر نہیں ہو سکتا۔ اس کام کے صرف دو طریقے ہیں ـــ ایک، متعین مداخلت ۔ اور دوسرا، متعین نشان دہی۔ اگر آپ صاحبِ اثر ہیں تو موقع پر پہنچ کر متعلق افراد پر دباؤ ڈالیے اور اُنھیں برائی سے روکیے، اور اگر آپ صاحبِ اثر نہیں ہیں تو کم از کم آپ کو یہ کرنا ہے کہ آپ برائی کی متعین نشان دہی کریں، یعنی جو افراد برائی میں ملوث ہیں، اُن کا نام لے کر اُن کی مذمت کریں ۔ ان دو طریقوں کے سوا کوئی تیسرا طریقہ اس کام کو انجام دینے کا نہیں_ 27 فروری 2009 کوروانگی کا دن تھا۔ سب سے پہلے مراری باپو کے بھائی دیوا کا ملاقات کے لیے ہماری قیام گاہ پر آئے ۔ یہ ان کی طرف سے رخصتی ملاقات تھی۔ انھوں نے ہمارے ہر ساتھی کو
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues