Al-Risala · July 2009 · page 37

Doing Dawah work at the cost of mad‘u.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۷

گفٹ (gift) پیش کیا اور مراری باپو کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد جب چلنے کا وقت ہوا تو مراری باپو ملاقات کے لیے خود ہماری قیام گاہ پر آئے۔ انھوں نے ہم لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ لوگ یہاں آئے، اس کے لیے ہم آپ کے بہت شکر گزار ہیں۔

یہاں کا ایک واقعہ قابل ذکر ہے۔ ہمارے ایک نئے ساتھی اپنی اہلیہ کے ساتھ اس سفر میں شریک تھے۔ وہ اسلام سے کافی دل چسپی رکھتے ہیں اور آج کل وہ قرآن کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ اُن کی والدہ ایک قدیم مذہبی خاتون ہیں۔ اسلام کے مطالعے کی وجہ سے اُن کے گھر میں کشیدگی کا ماحول تھا۔ گجرات کے سفر میں مراری باپو نے ہمارے مذکورہ ساتھی کی اہلیہ کو گفٹ کے طور پر ایک قیمتی ساڑی پیش کی اور ہمارے ساتھی کے ساتھ اپنی تصویر کھنچوائی۔

ہمارے ساتھی نے اپنی والدہ کی تالیف قلب کے طور پر یہ ساڑی ان کو دکھاتے ہوئے کہا، یہ مراری باپو کا آشیرواد ہے۔ انھوں نے اپنی والدہ کو مراری باپو کے ساتھ اپنی تصویر بھی دکھائی۔ ان کی والدہ مراری باپو کی بہت عقیدت مند تھیں ۔ اُن پر اس واقعے کا بہت اثر ہوا کہ مراری باپو نے میرے بیٹے کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویر کھنچوائی اور خود اپنے ہاتھ سے میری بہو کو ساڑی کا تحفہ پیش کیا۔ وہ بہت خوش ہوئیں اور گھر کے ماحول میں جو کشیدگی تھی، وہ ختم ہوگئی۔

اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعوت کا کام اگر حکمت کے ساتھ کیا جائے تو کس طرح ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کی مدد آتی ہے اور سارے معاملات خود بخود درست ہوتے چلے جاتے ہیں۔ مگر اس قسم کی نصرت صرف اُس دعوتی کام پر آتی ہے جو تالیفِ قلب کے قرآنی اصول پر حکمت کے ساتھ خیر خواہانہ انداز میں انجام دی جائے۔

27 فروری 2009 کو ظہر کی نماز پڑھ کر آشرم سے واپسی ہوئی۔ مہوا سے احمد آباد ائرپورٹ تک کا یہ سفر پانچ گھنٹے کا سفر تھا۔ میرا یہ طریقہ ہے کہ میں سفر میں ہر صورت حال کو ذہنی تربیت کے لیے پوائنٹ آف ریفرنس کے طور پر استعمال کرتا ہوں۔ میرے نزدیک یہی طریقہ تربیت کا صحیح طریقہ ہے۔ تربیت گاہ اور تربیتی پروگرام کی شکل میں جو رسمی تربیت دی جاتی ہے، وہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے بالکل بے فائدہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page