Doing Dawah work at the cost of mad‘u.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۸
تربیت حقیقت میں دو چیزوں کا نام ہے— ایک ایسا شخص جو پورے معنوں میں معلم تربیت ہو، اور دوسرے، ایسے افراد جو اپنے اندر ذاتی اصلاح کا جذبہ رکھتے ہوں اور پھر مربی ہر موقع کو اصلاحِ فکر کے لیے استعمال کرے۔ حقیقی تربیت ہمیشہ پوائنٹ آف ریفرنس کے حوالے سے ہوتی ہے، نہ کہ رسمی نوعیت کے تربیتی نظام کے ذریعہ۔
مثلاً جب ہماری کار سڑک پر دوڑ رہی تھی تو میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اس واقعے کی اہمیت کو آپ صرف اُس وقت سمجھ سکتے ہیں، جب کہ آپ اس کو تقابلی طور پر دیکھ سکیں۔ میں نے کہا کہ آج سے 80 سال پہلے میرے بچپن میں نہ ایسی سڑکیں ہوتی تھیں اور نہ ایسی کار۔ اُس وقت کے ماحول میں میں نے جو پہلا سفر کیا، وہ کچے راستے پر پیدل کی صورت میں تھا۔ اس کے بعد مختلف قسم کے سفر پیش آتے رہے— بیل گاڑی پر سفر، یکہ اور تانگہ پر سفر، بائسکل پر سفر، بس پر سفر، ٹرین پر سفر، بحری جہاز پر سفر، پھر آخر میں جدید کار اور تیز رفتار ہوائی جہاز پر سفر۔
میں نے کہا کہ میں غور کرتا ہوں تو مجھے اپنے سفر میں انسانی تہذیب (civilization) کا سفر دکھائی دینے لگتا ہے۔ آغاز میں انسانی زندگی بالکل سادہ تھی۔ اس کے بعد ہزاروں سال تک نسل در نسل بے شمار لوگوں نے محنتیں کیں، اس کے بعد یہ تمام سواریاں اور دوسرے ترقیاتی ذرائع وجود میں آئے۔ اس واقعے پر غور کیا جائے تو ایسا معلوم ہوگا کہ پوری نسل انسانی نسل در نسل مسلسل محنت کرتی رہی، اس کے بعد یہ ممکن ہوا کہ جدید طرز کی سڑکیں اور جدید طرز کی سواریاں وجود میں آئیںجن پر میرے جیسا آدمی بہ آسانی سفر کر سکے۔
میں ہر معاملے میں اسی طرح غور کرتا ہوں۔ چناں چہ میرے دل میں انسان کے لئے کوئی نفرت یا شکایت کا جذبہ موجود نہیں، جیسا کہ لوگوں کا حال ہے۔ میں پوری انسانیت کو اپنا محسن سمجھتا ہوں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورا انسانی قافلہ مسلسل سرگرمی کے ذریعے انسانی تہذیب کو ترقی دیتا رہا، یہاں تک کہ موجودہ ترقیاں وجود میں آئیں جن سے تمام لوگ فائدہ اٹھارہے ہیں۔
اسی کا نام تربیت ہے۔ دینی تربیت کا لفظ علماء میں اور اسلامی جماعتوں میں بہت بولا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues