Doing Dawah work at the cost of mad‘u.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۳۹
مگر یہ لوگ اس سے بے خبر ہیں کہ تربیت کیا چیز ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک تربیت کا تصور یہ ہے کہ تربیتی پروگرام کے تحت لوگوں کو ایک مقام پر اکٹھا کیا جائے۔ وہاں تربیت کے عنوان پر تقریریں کی جائیں اور قرآن وحدیث کا درس دیا جائے۔ یہ تربیت کا رسمی طریقہ ہے، اور رسمی تربیت کے ذریعے کبھی کسی کی تربیت نہیں ہوتی۔
تربیت یہ ہے کہ مختلف مواقع کو بطور ریفرنس استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو تربیت کی غذا دی جائے۔ جب ایسا کوئی مواقع پیدا ہوتا ہے تو اُس وقت انسان سننے کے لیے بالکل تیار ہو جاتا ہے۔ اُس وقت حکیمانہ انداز میں اُس موقع کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) کے طور پر استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ذہنی غذا دینا، یہی تربیت کا اصل طریقہ ہے۔
میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اصحاب رسول نے اپنے زمانے میں انتہائی سخت حالات میں دعوت کا کام کیا۔ بعد کے زمانے میں جو لوگ دعوت کا کام کریں گے، اُن کو خدا کی خصوصی نصرت حاصل ہوگی۔ اس کے نتیجے میں اُن کا سفر ایک شاہانہ سفر بن جائے گا۔ اس حقیقت کو بتائے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُن کا حال اس طرح ہوگا، جیسے کہ بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوئے (كالملوك على الأسرة)۔
میں نے کہا کہ اس حدیث رسول میں نئے دورِ دعوت کی پیشین گوئی موجود ہے۔ اس حدیث میں ”كالملوك“ کی تمثیل بہت بامعنی ہے۔ اُس کا مطلب شاہانہ مواقع ہیں، نہ کہ لفظی معنی میں شاہی تخت۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں جب مذہبی جبر کا دور ختم ہوگا، آزادی کا دور آئے گا اور صنعتی ترقیوں کے نتیجے میں جدید امکانات کھل جائیں گے، اُس وقت جو لوگ ان امکانات کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کریں، وہ بظاہر اگرچہ سیاسی اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہوئے نہیں ہوں گے لیکن عملاً ان کے لیے وہ تمام مواقع عالمی سطح پر پوری طرح کھل جائیں گے جن کا استعمال قدیم زمانے میں صرف کسی بادشاہ کے لیے ممکن ہوتا تھا۔
دعوت الی اللہ کے یہ شاہانہ موقع صرف اُن لوگوں کے حصے میں آئیں گے، جن کا حال یہ ہو کہ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues