Al-Risala · July 2009 · page 40

Doing Dawah work at the cost of mad‘u.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۴۰

اس قِسم کے واقعے سے فخر کی غذا نہ لیں، بلکہ ان کے احساسِ عجز میں اور اضافہ ہو جائے، وہ اس کو پوری طرح خدا کے خانے میں ڈال سکیں۔ اُن کی پوری شخصیت شکر اور حمد کے اُس ربانی احساس میں ڈھل جائے جس کو ایک حدیثِ رسول میں اہلِ جنت کی صفت کے طور پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالْحَمْدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفْسَ (صحیح مسلم، کتاب الجنة) یعنی آدمی کے اندر جس طرح سانس آتی جاتی ہے، اُسی طرح اس کے اندر مسلسل طور پر حمدِ خداوندی کا چشمہ جاری ہو جائے گا، پورا ماحول حمدِ خداوندی کے لیے کامل معنوں میں پوائنٹ آف ریفرنس بن جائے گا۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں، اس کے لیے وہ گہرا عمل درکار ہے جس کو حدیث میں جہاد بالنفس کہا گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس قِسم کی حمد کے لیے وہ شخصیت درکار ہوتی ہے جو کامل معنوں میں مثبت شخصیت ہو، جس کے اندر منفی احساس کا ایک ذرہ بھی باقی نہ رہے۔ ایسی شخصیت لمبی جدوجہد کے بعد بنتی ہے۔ ایسی شخصیت کی تعمیر کے لیے وہ اعلیٰ شعور درکار ہے جو منفی تجربے کو مثبت احساس میں کنورٹ کر سکے۔ اسی قِسم کی مثبت شخصیت کو اعلیٰ حمد کی توفیق ملتی ہے، اور اسی قِسم کی مثبت شخصیت کو جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ مہوا اور احمد آباد کے راستے میں باگودرا (Bagodra) کے مقام پر ہماری گاڑی رکی۔ یہاں مسافروں کے لیے مختلف قِسم کی دکانیں اور ہوٹل تھے۔ یہاں عنبر نام کا ایک بڑا ریسٹورنٹ تھا۔ ہم لوگوں نے وہاں چائے پی۔ ہمارے ساتھیوں نے ریسٹورنٹ کے مالک اور دیگر مسافروں کو انگریزی اور ہندی زبان میں چھپا ہوا دعوتی لٹریچر دیا۔

27 فروری 2009 کو شام کو 6 بجے ہم لوگ احمد آباد ایرپورٹ پہنچے۔ 25 فروری 2009 کو جب ہم لوگ احمد آباد کے ایرپورٹ پر اترے تھے، اُس وقت ہمارے ساتھ دعوتی لٹریچر کے 5 بڑے بڑے کارٹن (carton) تھے۔ آج جب کنونشن سے واپس ہو کر ہم لوگ یہاں آئے تو ہمارے ساتھ کوئی کارٹن نہیں تھا، کیوں کہ یہ سارا لٹریچر دعوتی مقصد کے تحت لوگوں کو مطالعے کے لیے دیا جا چکا تھا اور لوگوں نے بخوشی اُن کو لے لیا تھا۔

ایرپورٹ پر ہمارے ساتھیوں کی دعوتی سرگرمی جاری رہی۔ یہاں انھوں نے ایرپورٹ کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page