تاثراتِ سفر
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۴۶
نے کہا کہ اسی تدبر وتفکر کا نتیجہ ہے کہ الرسالہ میں اس قدر متنوع علمی اور فکری مضامین ہوتے ہیں۔ گہرے غور وفکر کے بغیر اس طرح کے اعلیٰ مضامین نہیں لکھے جاسکتے۔ مولانا نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب المفکر الاسلامی ہیں۔ وہ بلا شبہ المفکر الاسلامی المُنتِج المبدع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ اُن کی تحریروں میں دو چیزیں میں نے خاص طور پر دیکھی ہیں— ایک، یہ کہ وہ ہر چیز کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اُس سے خدا کی معرفت اخذ کرتے ہیں۔ اور دوسرے، یہ کہ وہ بظاہر سیکولر قسم کے واقعات میں بھی اسلام کی ابدیت اور اس کی حقانیت کا مثبت پہلو دریافت کر لیتے ہیں۔ مولانا سعید الرحمن الاعظمی ندوی نے بتایا کہ 1984 میں جامعہ اسلامیہ (مدینہ) میں اسلام اور عصری تحدیات کے موضوع پر مولانا وحید الدین خاں صاحب کے کچھ محاضرات ہوئے تھے۔ اس موقع پر میں بھی جامعہ اسلامیہ میں موجود تھا۔ میرا اور مولانا کا قیام ایک ہی ہوٹل میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ عرب شیوخ اور علماء مولانا وحید الدین خاں سے ملاقات کے لیے ہوٹل آرہے ہیں۔ یہ لوگ ہوٹل میں داخل ہوکر پوچھتے: فی أی غرفۃ المفکر الاسلامی (مفکرِ اسلام مولانا وحیدالدین خاں کا قیام ہوٹل کے کس کمرے میں ہے)۔
عشاء سے کچھ پہلے میں مکہ گنج (سیتا پور روڈ) کے لیے روانہ ہوا۔ وہاں میںنے استادِ محترم مولا نابو سبحان روح القدس ندوی (1954) سے ان کی رہائش گاہ (مؤسسۃ القدس) پر ملاقات کی۔ مولانا میرے استادِ حدیث ہیں۔ اُن سے میں نے الترمذی ثانی کا درس لیا ہے۔ میں نے مولانا کے پتے پر الرسالہ بھجوایا تھا۔ ملاقات کے دوران مولانا نے بتایا کہ الرسالہ اُن کو پابندی سے مل رہا ہے۔ مولانا ابو سبحان روح القدس ندوی نے کہا کہ ’’بہت دنوں سے میرے ذہن میں یہ سوال تھا کہ مفکر (thinker) کس کو کہتے ہیں۔ الرسالہ پڑھنے کے بعد مجھے اس سوال کا جواب مل گیا۔ میں نے الرسالہ کے صفحات میں واضح طور پر مفکرانہ بصیرت کا مطالعہ کیا۔ الرسالہ سے مجھ کو فکری رہنمائی ملی۔ الرسالہ کا مطالعہ کرنے کے بعد میرا فکری کنفیوژن دور ہوگیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues