Al-Risala · August 2009 · page 7

اہل وعیال کا فتنہ

الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۷

اہل وعیال کا فتنہ

حدیث کی کتابوں میں اہل وعیال کے بارے میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ اُن میں سے دو روایتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں:

حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الويل كل الويل، لمن ترك عياله بخير، وقدم على ربه بشر (مسند الشهاب القضاعی، جلد 2، صفحہ 24، رقم الحديث (304) یعنی کامل تباہی و بربادی ہے اُس شخص کے لیے جس نے (موت کے وقت) اپنے عیال کو اچھی حالت میں چھوڑا، اور خود برے حال میں اپنے رب کے پاس پہنچا۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: يُؤتى برجل يوم القيامة فيقال: أكل عياله حسناته ( تفسير القرطبي، جلد 18 صفحه 143 ) یعنی قیامت کے دن ایک شخص لایا جائے گا اور اُس سے کہا جائے گا کہ تمھارے اہل وعیال تمھاری نیکیاں کھا گئے۔ قدیم زمانے میں صرف کچھ افراد اس قسم کے ہوتے تھے، لیکن موجودہ زمانے میں اس پہلو سے بگاڑ کا یہ حال ہے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے تمام لوگ اس تباہ کن کم زوری کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس کم زوری کا سبب حبّ عیال ہے۔ بظاہر لوگ خدا کا اور اسلام کا نام لیتے ہیں، لیکن اُن کی محبتیں صرف اپنے اہل وعیال سے ہوتی ہیں۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ اُن کا سب سے بڑا اکسرن اُن کے اہل وعیال ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اور اپنے مال و اسباب کو اپنے اہل وعیال کے لیے وقف کیے رہتے ہیں۔ موت ایسے لوگوں کے لیے ایک جبری انقطاع (compulsive detachment) کے طور پر آتی ہے۔ ایسے لوگ جب موت کے بعد خدا کے پاس پہنچتے ہیں تو وہاں کے لیے اُن کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی محرومی ہے۔ یہ دوسروں کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت کو تباہ کرنا ہے (أذهب آخرته بدنیا غیرہ) مزید یہ کہ یہ اہل وعیال جن کو آدمی اپنا سب کچھ دے دیتا ہے، وہ موت کے بعد اُس سے اس طرح جدا ہو جاتے ہیں کہ دوبارہ وہ اُس کو کبھی نہیں ملتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues

Printed page