ہدایت کس کے لیے
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۸
ہدایت کس کے لیے
قرآن کی سورہ نمبر 28 میں انسانی ہدایت کا قانون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : إِنَّكَ لا تهدي من أحببت ولكن الله يهدي من يشاء، وهو أعلم بالمهتدين (القصص : 56) یعنی تم جس کو چاہو، اُس کو تم ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو وہ ہدایت دیتا ہے۔ اور وہی خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں صرف اُس شخص کو ہدایت ملتی ہے جو خدا کے قانونِ ہدایت کے مطابق، اِس کا طالب ہو۔ اور پھر صحیح طریقے کے مطابق، اِس کو پانے کی کوشش کرے۔ اِس مقرر کورس کے اختیار کیے بغیر امتحان کی اس دنیا میں کسی کو ہدایت نہیں مل سکتی۔ یہی بات ایک حدیث قدسی میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: يا عبادى، كلّكم ضال إلا من هديته، فاستهدوني أهدكم (صحيح مسلم، كتاب البر والصلة والأدب، باب تحريم الظّلم)۔ یعنی اے میرے بندو، سن لو کہ تم سب بھٹکے ہوئے ہو، سوا اُس شخص کے جس کو میں ہدایت دوں۔ پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا۔ اس حدیث قدسی میں بھی یہی بات کہی گئی ہے کہ اس دنیا میں ہدایت کو پانا صرف اُس شخص کے لیے ممکن ہے جو خالق کی طرف سے مقرر کیے ہوئے طریقے کے مطابق، اِس کا طالب بنے۔ اِس کے سوا کوئی اور راستہ ہدایت کی منزل تک پہنچانے والا نہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا دماغ دیا ہے جو اپنے اندر غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ انھیں میں سے ایک صلاحیت وہ ہے جس کو حافظہ (memory) کہا جاتا ہے۔ حافظے کے اندر لامحدود طور پر یہ صلاحیت ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی یا پڑھی ہوئی چیز کو اپنے اندر محفوظ کرلے۔ کوئی بھی چیز جو ایک بار انسان کے حافظے میں پڑ گئی، وہ پھر کبھی اُس سے محو نہیں ہوتی، خواہ آدمی بہ ظاہر اس کو بھول گیا ہو۔ ذہن میں چیزوں کے محفوظ ہونے کا یہ معاملہ انسان کے بچپن سے شروع ہوتا ہے اور اس کی آخری عمر تک بلا انقطاع جاری رہتا ہے۔ اس حافظے کی بنا پر انسان کا دماغ افکار کا جنگل (jungle of thoughts) بن جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues