سائنس دانوں کا مذہب
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۱۸
سائنس دانوں کا مذہب
سائنس کیا ہے۔ سائنس کے لفظی معنی علم (knowledge) کے ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں سائنس سے مراد وہ شعبہ علم ہے جس میں منضبط انداز میں عالم فطرت کا مطالعہ کیا جاتا ہے: Science: The systematized knowledge of nature and the physical world. سائنسی علوم میں مطالعے کی بنیاد علم الحساب (mathematics) ہوتا ہے۔ اس بنا پر ان علوم میں قطعی نتائج تک پہنچنا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس لیے سائنسی علوم کو علوم قطعیہ (exact sciences) کہا جاتا ہے۔ سائنس داں اس شعبۂ علم کا مطالعہ کرتا ہے۔ وہ اس میں اپنے آپ کو مشغول کرتا ہے۔ علوم قطعیہ میں اس مشغولیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سائنس داں کے اندر قطعی طرزِ فکر (exact thinking) پیدا ہو جاتی ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس دانوں کا ذہن ادیبوں اور شاعروں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ سائنس داں اپنی فکر کے اعتبار سے بے حد حقیقت پسند ہوتا ہے۔ اپنے میدان مطالعہ کی بنا پر سائنس داں کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ خیالی انداز میں سوچے، وہ ثابت شدہ حقیقت کا انکار کر دے۔ سائنسی مطالعہ ایک سائنس داں کو کامل طور پر ایک سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ بہت سے اہل علم نے اس معاملے کا مطالعہ مذہب کے زاویۂ نظر سے کیا ہے۔ انھوں نے پایا ہے کہ تمام سائنس داں کسی نہ کسی طور پر اپنے اندر وہ احساس پاتے تھے جس کو مذہبی احساس (religious feeling) کہا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں یہاں دو کتابوں کے نام لکھے جاتے ہیں: Einstein and Religion, by Max Jammer The God Delusion, by Richard Dawkins اس سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ کوئی سائنس داں جب فطرت کا مطالعہ کرتا ہے، تو وہ نہایت گہرائی کے ساتھ اس حقیقت کا ادراک کرتا ہے کہ فطرت کے نظام میں کامل درجے کی معنویت اور ہم آہنگی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues