Al-Risala · August 2009 · page 19

سائنس دانوں کا مذہب

الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۱۹

پائی جاتی ہے۔ سائنس داں کو فطرت کے اس نظام کے اندر ایک پُر اسرار قسم کی طاقت کار فرما نظر آتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس پوزیشن میں نہیں پاتا کہ وہ اس کی توجیہہ کر سکے۔ اس کے باوجود وہ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس پر اسرار احساس کو مشہور جرمن سائنس داں آئن اسٹائن (وفات: 1955) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— ایک شخص جو فطرت کا مطالعہ کرے، اُس کا سب سے زیادہ خوب صورت تجربہ یہ ہوتا ہے کہ فطرت میں گہری پُر اسراریت ہے۔ تم مشکل سے کوئی ایسا آدمی پاؤ گے جو گہرا سائنسی ذہن رکھتا ہو، پھر بھی وہ مذہبی احساسات سے خالی ہو:

The most beautiful experience one may enjoy is a ‘sense of mystery; you will hardly find one among the profounder sort of scientific minds without a ‘religious feeling’ (The Times of India, New Delhi, April 5, 2008, p. 20. Quoted by, Andrew Whitaker, Professor of Physics at Queen’s University, Belfast, Ireland.)

سائنس داں فطرت میں اپنے اس تجربے کو کاسمک ریلیجن (cosmic religion) سے تعبیر کرتے ہیں۔ تاہم سائنس داں عام طور پر خدا (God) کا لفظ استعمال نہیں کرتے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ شخصی خدا (personal God) کے تصور کو ماننا نہیں چاہتے۔ کیوں کہ شخصی خدا کے ساتھ اتھارٹی (authority) کا تصور جڑا ہوا ہے، اور اتھارٹی کے ساتھ انعام اور سزا (reward and punishment) کا تصور، اور یہ وہ چیز ہے جس کو کوئی سائنس داں، یا جدید ذہن ماننے کے لیے تیار نہیں۔ سائنس داں فطرت کے مطالعہ کے دوران ایک حیرت انگیز قسم کے پُر اسرار احساس سے دوچار ہوتا ہے۔ اس کو ایک احساسِ استجاب (sense of awe) کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہی احساس کسی سائنس داں کے لیے سب سے بڑی داخلی طاقت ہوتا ہے۔ آئن اسٹائن کے ایک سوانح نگار نے اس کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں— آئن اسٹائن اس کو کاسمک ریلیجن کہتا ہے۔ فطرت کے نظام میں حیران کن انضباط کی موجودگی، سائنس داں کے لیے ایک ایسا سوال بنی ہوئی ہے جو اُس کو مذہب جیسی ایک سوچ کی طرف لے جاتی ہے:

He called it ‘cosmic religion’ and it was a sense of awe at the nobility and marvelous order which are reflected in nature and in

‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues

Printed page