سائنس دانوں کا مذہب
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۲۰
سائنس، نیچر کے مطالعے کا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں سائنس خدا کی تخلیق کا مطالعہ کرتی ہے۔ اس مطالعے میں فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ تخلیقی قوانین میں خالق کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ سائنس داں کا موضوع اگرچہ فطرت کے قوانین کا مطالعہ ہے، لیکن فطرت کو اس کے خاطر سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے فطرت کے مطالعے کا بالواسطہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سائنس داں، فطرت کی دریافت کے ساتھ فاطر کے بہت قریب آجاتا ہے۔
تقریباً تمام سائنس دانوں نے بالواسطہ انداز میں خدا کے وجود کا اعتراف کیا ہے۔ سر آئزک نیوٹن (وفات: 1727) اور کیپلر (وفات: 1630) نے اس ہستی کو آرڈر (order) کا نام دیا۔ اس کے بعد اسپینوزا (وفات: 1677) اور آئن اسٹائن (وفات: 1955) نے اس کو کاسمک اسپرٹ (cosmic spirit) بتایا۔ اس کے بعد سر آرتھر ایڈنگٹن (وفات: 1944) اور سر جیمز جینز (وفات: 1946) نے اس کوریاضیاتی مائنڈ (mathematical mind) کا نام دیا۔ تاہم غالباً کسی بھی سائنس داں نے اس خالق کا اعتراف خدا یا پرسنل گاڈ (personal God) کے الفاظ میں نہیں کیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سائنس دانوں نے خدا کے وجود کا اعتراف بالواسطہ انداز میں تو ضرور کیا، لیکن براہِ راست انداز میں خدا کے وجود کا کھلا اعتراف ابھی تک سائنٹفک کمیونٹی کی طرف سے نہیں آیا۔
سائنس کے دو بڑے شعبے ہیں۔ نظریاتی سائنس (theoretical science) اور عملی سائنس (practical science)۔ خدا کا موضوع نظریاتی سائنس سے تعلق رکھتا ہے۔ اس معاملے میں بدقسمتی سے ایسا ہوا کہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں پہنچ کر نظریاتی سائنس میں تحقیق کا کام تقریباً ختم ہو گیا۔ اب صرف انطباقی سائنس (applied science) کے میدان میں تحقیق کا کام ہونے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues