خاموش تدبیر کا طریقہ
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۴۰
سوال وجواب سوال 9 مئی 2009 کوانڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں خدا کے وجود کے موضوع پر انگریزی زبان میں آپ کی ایک تقریر تھی۔ میں اس تقریر میں شروع سے آخر تک شریک رہا۔ میں نے دیکھا کہ سامعین نے خدا کے وجود پر دئے گئے سائنسی دلائل سے پورا اتفاق کیا۔ تاہم ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ سینئر ہندو خاتون نے تقریر کے بعد مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب کی بات سے مجھ کو پورا اتفاق ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ خدا کے وجود پر سائنسی دلائل کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ خدا تو ہمارے اندر موجود ہے۔ براہ کرم، اس معاملے کی وضاحت فرمائیں (محمد ذکوان ندوی، نئی دہلی) جواب مذکورہ خاتون نے جو بات کہی، وہ کوئی سادہ بات نہیں تھی۔ اصل یہ ہے کہ خدا کے بارے میں دو الگ تصور (concept) پائے جاتے ہیں۔ ایک ہے، توحید (monotheism)، یعنی خدا کو ایک شخصی وجود (personal God) کے طور پر ماننا۔ اور دوسرا ہے تصور وحدتِ وجود (monism)، یعنی خدا کو غیر شخصی ہستی (impersonal God) کے طور پر ماننا۔ یہ وہی چیز ہے جس کو کچھ دوسرے لوگ داخل میں بسا ہوا خدا (indwelling god) کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔
وحدتِ وجود کو سنسکرت میں ادویت واد کہا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق، خدا صرف ایک اسپرٹ ہے، جس طرح قوتِ کشش (gravity) ایک اسپرٹ ہے۔ وحدتِ وجود کے نظریے کو اگر چہ مسلم صوفیوں نے اختیار کر لیا، لیکن میرے نزدیک وہ سرتا سر ایک بے اصل (baseless) نظریہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وحدتِ وجود کوئی مذہبی تصور نہیں، وہ صرف ایک فلسفیانہ تصور ہے جس کو مذہب میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اسی بنا پر ہندو مذہب میں اس اعتبار سے سخت تضاد پیدا ہو گیا ہے۔ ایک طرف وہ زرا کار خدا (formless god) کو مانتے ہیں اور دوسری طرف وہ دیوتاؤں کی مورتی بنا کر اُس کو آکار (form) کا درجہ دئے ہوئے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues