Al-Risala · August 2009 · page 41

خاموش تدبیر کا طریقہ

الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۴۱

موجودہ زمانے میں سائنس نے کائنات کا جو مطالعہ کیا ہے، اُس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ کائنات کی تخلیق اور اس کے انتظام میں ایک برتر ذہن (superior mind) کام کر رہا ہے، جس کو ایک سائنس داں نے شعوری وجود (conscious being) کا نام دیا ہے۔ اِس طرح سائنس کی دریافتوں نے وحدتِ وجود کے تحت مفروضہ خدا کی مکمل طور پر تردید کردی ہے، جس طرح اُس نے زمین مرکزی (geo-centric) شمسی نظام کی تردید کردی تھی۔ اِس کے برعکس، سائنس کی دریافتیں پورے معنوں میں عقیدۂ توحید کے تحت بیان کردہ تصور خدا کی علمی تصدیق بن گئی ہیں۔ سوال موجودہ زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ اپنے اپنے انداز میں اسلام کی تعبیرات (interpretations) پیش کر رہے ہیں۔ اِس طرح اسلام کے بہت سے تصورات بن گئے ہیں۔ اِس صورت حال کو دیکھ کر عام انسان سخت پریشان ہے۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس کے تصورِ اسلام کو درست سمجھے، اور کس کے تصورِ اسلام کو نا درست۔ براہِ کرم، اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں (ایک قاری الرسالہ، سری نگر، کشمیر)

جواب

یہ سوال عام طور پر وہ لوگ کرتے ہیں جن کا مطالعہ اسلام کے بارے میں بہت کم ہوتا ہے۔ وہ مختلف لوگوں کی بات سنتے ہیں اور مختلف قسم کی کتاب اپنی مادری زبان میں پڑھتے ہیں۔ اُن کے اندر تجزیہ اور محاکمہ (analysis) کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اپنی اِس کمی کی بنا پر وہ اسلام کے بارے میں کنفیوژن (confusion) کا شکار ہوجاتے ہیں۔

اِس قسم کے لوگوں کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے ــــ یا تو وہ اپنی دوسری مصروفیتوں کو چھوڑ کر عربی زبان سیکھیں اور پھر براہِ راست طور پر اسلام کا تفصیلی مطالعہ کریں۔ اِس گہرے مطالعے کے بعد وہ جس نتیجے پر پہنچیں، اِس کو اختیار کر لیں۔ لیکن اگر وہ اِس قسم کے تفصیلی مطالعے کا موقع نہ رکھتے ہوں تو اُن کے لیے دوسرا انتخاب صرف یہ ہے کہ وہ کسی عالم کو اپنا رہنما بنا لیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues

Printed page