کے تمام کر رہے ہے مہ
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۴۲
مختلف علماء میں سے جس عالم کے علم اور اخلاص پر اُن کو اعتماد ہو، وہ اُس کو پکڑ لیں۔ وہ اس کی کتابوں کو پڑھیں اور جہاں ضرورت ہو، اُس سے رجوع کریں۔ ان دو کے سوا جو طریقہ وہ اختیار کریں گے، وہ صرف اُن کی گمراہی کو بڑھائے گا، وہ اُن کو ہدایت تک پہنچانے والا نہیں۔
عجیب بات ہے کہ اکثر لوگ اِس کے خلاف عمل کرتے ہیں ۔ وہ مختلف علماء اور غیر علماء سے اپنے سوالات پر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ چوں کہ اُن کے اندر محاکمہ کی صلاحیت نہیں ہوتی، اِس لیے وہ ہمیشہ خیالات کے جنگل میں جیتے ہیں اور ہمیشہ کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ جو آدمی کنفیوژن کا شکار ہو، وہ ہمیشہ بے یقینی کا شکار رہے گا، اور بے یقینی آدمی کو اس سے محروم کردیتی ہے کہ ،۔۔۔
وہ سچائی کو دریافت کرے اور اُس پر یقین کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔
کے تمام کر رہے ہے مہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues