پیغام
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۴۳
پیغام
یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اخبار ’’ پر بھات‘‘ (میرٹھ، یوپی) کا اردو ایڈیشن ( صبا پر بھات) نکل رہا ہے۔ یہ اخبار کے لیے گویا کہ ایک نئی پہل ہے۔ میری دعا ہے کہ اخبار کی یہ نئی پہل ہر اعتبار سے کامیاب ہو۔
میں سمجھتا ہوں کہ کسی اخبار کا پہلا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ وقت کے حالات کی صحیح رپورٹنگ کرے، وہ لوگوں کے اندر درست سوچ پیدا کرے۔ اخبار کسی سماج کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ’’ پر بھات‘‘ کا ہندی ایڈیشن اور اس کا اردو ایڈیشن دونوں اس معیار پر پورے اتریں گے۔ اس وقت ہمارے ہندوستانی سماج کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ تعمیری سوچ ہے۔ جس سماج کے لوگوں میں تعمیری سوچ ہو، وہی لوگ اچھا سماج بناتے ہیں۔ افراد کے اندر تعمیری سوچ کے بغیر کوئی سماج اچھا سماج نہیں بن سکتا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر سماج میں ہمیشہ مختلف قسم کی باتیں پیش آتی ہیں، خوش گوار باتیں بھی اور نا خوش گوار باتیں بھی۔ اس معاملے میں اخبار کا کام ایک ریفارمر (reformer) کا کام ہے۔ اخبار کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اچھی باتوں کو نمایاں کرے اور لوگوں کے اندر یہ مزاج پیدا کرے کہ اگر اُن کو اپنی زندگی میں کچھ نا گوار باتوں کا تجربہ ہو تو وہ اُن کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کریں، وہ ہر حال میں اعتدال کے اصول پر قائم رہیں۔ اس طرح کے مزاج کو فروغ دینا ہی سب سے بڑا تعمیری کام ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اخبار ’’ پر بھات‘‘ صحافت کے میدان میں یہی تعمیری رول ادا کرے گا۔
نئی دہلی، 2 اپریل 2009 دعا گو وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues