پیغام
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۴۵
صدر اسلامی مرکز سے دینی، علمی اور فکری استفادے کے لیے دنیا کے مختلف مقامات سے لوگ آتے رہتے ہیں۔
مارچ 2008 سے ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ یہ علماء کی آمد کا سلسلہ ہے۔ ہندوستان کے مختلف مقامات کے علماء، خاص طور پر ساؤتھ انڈیا کے علماء برابر صدر اسلامی مرکز سے استفادہ کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے طور پر قیام و طعام کا انتظام کرکے دہلی میں ٹھہرتے ہیں اور دن کے مختلف اوقات میں صدر اسلامی مرکز کے حلقے میں شریک ہوکر ان سے تربیت لیتے ہیں۔ یہ علماء پہلے سے مختلف دینی اور دعوتی کاموں میں شامل رہے ہیں، مگر ان کا بیان ہے کہ صدر اسلامی مرکز سے استفادہ کرنے کے بعد ہماری آنکھیں کھل گئیں۔ ہم نے پایا کہ اس سے پہلے ہم صرف مظاہر دین پر کھڑے ہوئے تھے۔ اب ہم حقیقی دین سے متعارف ہوئے ہیں۔ مزید انھوں نے کہا کہ ابتداء کی گئی مہینے تک ہم نے خالص تنقیدی انداز میں مطبوعات الرسالہ کا گہرا تقابلی مطالعہ کیا۔ ہم نے اپنے مطالعے میں پایا کہ الرسالہ کا لٹریچر قرآن اور سنت کو معیار بنا کر تیار کیا گیا ہے۔ دینی اعتبار سے اس میں شبہہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جو فرق ہے، وہ صرف اسلوب کا فرق ہے، یعنی قرآن اور سنت کی تعلیمات کو عصری اسلوب میں بیان کرنا۔ یہ حضرات الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کو بڑے پیمانے پر دوسرے لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues