جنت کی پہچان
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۴
جنت کی پہچان
قرآن کی سورہ نمبر 47 میں اہلِ جنت کے بارے میں آیا ہے کہ: ویدخلھم الجنۃ عرفھا لھم (محمد: 6)۔ اِس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: "اور اللہ اُن کو جنت میں داخل کرے گا جس کی انھیں پہچان کرا دی ہے۔ " اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جنت اُن اہلِ معرفت کے لیے ہے جن کے لیے موجودہ دنیا جنت کی پہچان بن جائے۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا اپنی حقیقت کے اعتبار سے مثل جنت ہے۔ جنت میں جو چیزیں اعلیٰ معیار پر پائی جاتی ہیں، وہی موجودہ دنیا میں غیر معیاری صورت میں موجود ہیں (البقرۃ: 25)۔ جس آدمی کو معرفت کے درجے میں ایمان ملا ہو، وہ اِس معاملے میں اتنا زیادہ حساس ہو جائے گا کہ دنیا کی ہر چیز میں اٗس کو جنت کی جھلک دکھائی دے گی، دنیا کی ہر چیز اٗس کے لیے جنت کی پہچان بن جائے گی:
Everything in this world serves as an introduction to Paradise. قرآن میں آیا ہے کہ اہلِ جنت کو جب کوئی جنتی چیز دی جائے گی تو وہ کہیں گے کہ: ھذا الذی رزقنا من قبل (البقرۃ: 25) یعنی یہ تو وہی ہے جیسا کہ اِس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا۔ اِسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ: اِنّ شدۃ الحرّ من فیح جھنم (صحیح البخاری، کتاب المواقیت) یعنی گرمی کی شدت جہنم کی پھونک کی وجہ سے ہے۔
اِس آیت اور اِس حدیث کو لے کر غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا اِس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ انسان کے لیے جنت اور جہنم کی یاد دہانی کا ذریعہ بن جائے۔ یہاں آدمی کو کوئی نعمت ملے تو اٗس کے اندر اِس کو جنت کی جھلک دکھائی دے۔ اِسی طرح یہاں کوئی مصیبت پیش آئے تو وہ اِس کے تجربے سے جہنم کو یاد کرنے لگے۔ جو آدمی موجودہ دنیا میں اِس طرح رہے، اٗس کے اندر بیک وقت دو صفات پیدا ہوں گی— جہنم کا ڈر، اور جنت کا اشتیاق۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues