Al-Risala · September 2009 · page 15

پیغمبر امن

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۵

ساتھ رہے۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے آپ سے یہی سوال کیا۔ اس نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، مجھے کوئی ایسا مختصر فارمولا بتائیے جس کو میں اپنی پوری زندگی میں اپنا سکوں۔ آپ نے فرمایا: لا تغضب (تم غصہ نہ کرو)۔ یہ روز مرہ کی زندگی کو پرامن بنانے کے لیے ایک ماسٹر فارمولا ہے۔ گھر کے اندر کی زندگی میں یا گھر کے باہر کی زندگی میں جو چیز امن کو ختم کرتی ہے، وہ غصہ ہے۔ آدمی اگر صرف یہ کرے کہ جب اس کو غصہ آئے تو وہ خاموش ہو جائے۔ وہ اپنے غصہ پر کنٹرول کرلے۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ ایک پرامن انسان بن جائے گا۔ غصہ کو باہر نکالنے سے امن کا ماحول ختم ہوتا ہے اور غصہ پر کنٹرول کرنے سے امن کا ماحول قائم ہوتا ہے۔ 2- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انّ اللہ يعطى على الرفق مالا يعطى على العنف (خدا نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا)۔ اس حدیث رسول میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ خدا کی بنائی ہوئی اس دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ صرف ایک ہے، وہ یہ کہ آدمی ہمیشہ امن کے دائرے میں رہے۔ وہ اپنے عمل کی منصوبہ بندی پرامن انداز میں کرے۔ وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کبھی بھی امن کے دائرہ سے باہر نہ جائے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔ خدا کی اس دنیا میں کامیابی ہمیشہ امن کے ذریعہ ملتی ہے، نہ کہ جنگ اور ٹکراؤ کے ذریعہ۔ 3- حضرت عائشہ صدیقہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی جنرل پالیسی کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ما خيّر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بين أمرين إلا اختار أيسرهما (رسول اللہ کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا، تو آپ دونوں میں سے آسان تر معاملے کا انتخاب کرتے)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نزاعی امور میں ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ دیتے جو کہ ہمیشہ نقصان میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ ایسے موقع پر آپ ہمیشہ امن کا طریقہ اختیار فرماتے جو کہ ہمیشہ سدھار کی طرف لے جانے والا ثابت ہوتا ہے۔ نزاع کے حل کے لیے آپ ہمیشہ پر امن طریق کار کا انتخاب فرماتے اور ہر ممکن کوشش سے ٹکراؤ اور تشدد کے راستے کو ترک کر دیتے۔

4- یہی اصول آپ نے جنگ کے موقع پر بھی اختیار فرمایا۔ قدیم عرب کے لوگ آپ کے خلاف

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page