کاش ایسا ہوتا، کاش ویسا ہوتا
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۳۹
کاش ایسا ہوتا، کاش ویسا ہوتا
ہیر نشا ایک برٹش رائٹر ہے۔ اُس نے اپنی ایک کتاب میں بہت سی واقعی مثالوں کے ذریعے بتایا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو تاریخ کچھ اور ہوتی، اس کتاب کا نام یہ ہے۔ تاریخ کے اگر: The Ifs of History, by F. G. C. Hearenshaw یہ عام انسانی کم زوری ہے کہ وہ گزرے ہوئے دنوں کی یاد میں جیتا ہے۔ وہ ہمیشہ یہ سوچتا رہتا ہے کہ کاش ایسا ہوتا، کاش ویسا ہوتا۔ اس قسم کی سوچ ایک تباہ کن سوچ ہے۔ وہ آدمی کے اندر غیر ضروری قسم کا ٹینشن پیدا کر دیتی ہے۔ ٹینشن ایک سخت قسم کی مہلک چیز ہے۔ ٹینشن اگر چہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے، لیکن ٹینشن آدمی کے اندر طرح طرح کی مہلک بیماریاں پیدا کر دیتا ہے۔ ماضی کی تلخ یادوں میں جینا، ایک ایسی عادت ہے جس کا نقصان یقینی ہے، اور اس کا فائدہ کچھ بھی نہیں۔ ماضی کی غلطیوں کو یاد کر کے اگر ان سے سبق لیا جائے تو بلا شبہ وہ انسان کے لیے مفید ہیں۔ لیکن اگر ماضی کی غلطیوں کو سوچ کر آدمی غم اور افسوس میں پڑا رہے تو یہ ایک سخت ناعاقبت اندیشانہ فعل ہے۔ کیوں کہ ماضی کی تاریخ کبھی کسی کے لیے واپس نہیں آتی۔ ماضی کی تلخ یادوں کو صرف بھلانا ہے، نہ کہ ان کو یاد کر کے اپنے ذہن میں ان کی تلخی باقی رکھنا۔
گزر رہا وقت کبھی کسی کے لیے واپس نہیں آتا۔ عقل مند انسان وہ ہے جو حاصل شدہ مواقع کو بھر پور طور پر استعمال کرے، نہ کہ گزرے ہوئے مواقع کو یاد کر کے اس پر افسوس کرتا رہے۔ اسی حقیقت کو ایک اردو شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے:
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
زندگی نا موافق حالات میں موافقت تلاش کرنے کا نام ہے، نہ کہ نا موافق حالات پیش آنے پر اُس کے خلاف غم اور افسوس کرنے کا۔ کامیاب انسان وہ ہے جو اپنے آپ کو منفی سوچ سے بچائے اور ہمیشہ مثبت طرز فکر پر قائم رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues