نیگیٹو ایڈوانٹیج لینا
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۴۰
نیگیٹو ایڈوانٹیج لینا
ہر ایڈوانٹیج (advantage) کے دو پہلو ہوتے ہیں— مثبت پہلو اور منفی پہلو۔ جب کسی ایڈوانٹیج کا مثبت استعمال کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کو خود بھی اس کا فائدہ پہنچے گا اور وہ سماج کو بھی فائدہ پہنچانے کا سبب بن جائے گا۔ لیکن اگر کسی ایڈوانٹیج کا منفی استعمال کیا جائے تو اس کا الثانیجہ نکلے گا۔ ایسا آدمی خود بھی نقصان اٹھائے گا اور دوسروں کو بھی نقصان پہنچانے کا سبب بنے گا۔ اس کی ایک مثال آزادی ہے۔ آزادی بلاشبہ ایک اعلیٰ نوعیت کا ایڈوانٹیج ہے۔ لیکن آزادی کے استعمال کے دو پہلو ہیں— مثبت استعمال اور منفی استعمال۔ آزادی کا مثبت استعمال اس کا صحیح استعمال ہے، اور آزادی کا منفی استعمال اس کا غلط استعمال۔ دونوں قسم کے استعمال کے نتائج کبھی یکساں نہیں ہوسکتے۔ اگر آپ آزادی کا اس طرح استعمال کریں کہ قانونی حدود میں رہتے ہوئے بزنس کریں، محنت کرکے تعلیم حاصل کریں، تعمیری مقصد کے تحت آرگنائزیشن بنائیں، اس طرح کا ہر کام آزادی کا مثبت استعمال ہے۔ آزادی کا ایسا استعمال ہمیشہ مفید ثابت ہوتا ہے، فرد کے لیے بھی اور اجتماع کے لیے بھی۔ لیکن آزادی کا اگر منفی استعمال کیا جائے تو وہ فرد اور اجتماع دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ مثلاً جذباتی سیاست چلانا، اینٹی اسٹیبلش منٹ (anti-establishment) نعروں پر لوگوں کو بھڑکانا، لوگوں کو ڈیوٹی کانشعش (duty-conscious) بنانے کے بجائے رائٹ کانشعش (right-conscious) بنانا، اپنی کوتاہی کا الزام دوسروں کے اوپر ڈال کر مخالفانہ تحریک چلانا، وغیرہ۔ یہ آزادی کا نیگیٹو ایڈوانٹیج لینا ہے۔ اس قسم کی پالیسی ہمیشہ اور ہر اعتبار سے تباہ کن ثابت ہوتی ہے، اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔ کسی چیز کا نیگیٹو ایڈوانٹیج لینے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مواقع کے استعمال اور مواقع کی بربادی کے فرق کو نہیں سمجھتا۔ وہ نہیں جانتا کہ کوئی ایڈوانٹیج اس لیے ہوتا ہے کہ اس کا مثبت استعمال کرکے اس سے فائدہ اٹھایا جائے، نہ کہ اس کا نیگیٹو استعمال کرکے اپنی تباہی میں اضافہ کر لیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues