Al-Risala · January 2009 · page 41

ایم فیکٹر، کیوفیکٹر

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۴۱

ایم فیکٹر، کیوفیکٹر

دہلی کے ایک مسلم نو جوان ایک انگریزی میگزین میں کام کرتے تھے۔ اس میگزین کے مالکان سب ہندو تھے۔ چند سال کے بعد منتظمین کی طرف سے مذکورہ مسلم نو جوان سے کہا گیا کہ آپ استعفیٰ دے دیں۔ چوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ اگر وہ استعفیٰ نہ دیں تو اُن کو برخواست کر دیا جائے گا۔ اس لیے انھوں نے استعفیٰ دے دیا۔

اس کے بعد مذکورہ مسلم نو جوان سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میرے ساتھی کہتے ہیں کہ اس کا سبب ایم فیکٹر (M-factor) ہے۔ میں نے کہا کہ ہرگز نہیں، اس کا سبب صرف کیو فیکٹر (Q-factor) ہے، یعنی مسلم فیکٹر نہیں، بلکہ کوالٹی فیکٹر۔ میں نے کہا کہ آپ اپنے دل سے منفی خیال مکمل طور پر نکال دیں اور آپ صرف ایک کام کریں، وہ ہے اپنی انگلش رائٹنگ کو امپروو (improve) کرنا۔ میرے مشورے سے انھوں نے برٹش کونسل میں داخلہ لے لیا۔ وہاں انھوں نے ایک سال اپنی زبان کو امپروو کرنے کی کوشش کی۔ برٹش کونسل سے ایک سال کا کورس پورا کرنے کے بعد ان کی زبان پہلے سے بہتر ہو چکی تھی۔ اس کے بعد انھوں نے ایک اور انگریزی میگزین میں انٹرویو دیا۔ وہاں ان کا سلیکشن ہو گیا۔ اب وہ اس دوسرے انگریزی میگزین میں کام کر رہے ہیں۔ یہاں ان کو پہلے سے تقریباً تین گنا زیادہ تنخواہ ملتی ہے، جب کہ اس دوسرے میگزین کے مالکان بھی ہندو ہیں۔ اس مثال سے زندگی کی ایک حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اکثر لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ جب وہ کسی ناپسندیدہ صورتِ حال سے دوچار ہوتے ہیں تو وہ یہ کرتے ہیں کہ اس کو فوراً تعصب (bias) کا معاملہ سمجھ کر اس کی ذمے داری دوسرے کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔ لیکن گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ تعصب کا لفظ صرف ڈکشنری میں پایا جاتا ہے، حقیقی زندگی میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ جب بھی آپ کو دوسروں کی طرف سے کوئی ناخوش گوار تجربہ پیش آئے تو سمجھ لیجیے کہ وہ خود آپ کی کسی کمی کی بنا پر پیش آیا ہے۔ اپنی کمی کو دریافت کرکے اس کو دور کیجیے اور پھر آپ کی شکایت اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues

Printed page