Al-Risala · September 2009 · page 32

دو چیزوں میں فرق

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۲

دو چیزوں میں فرق

9 مئی 2009 کی شام کو انڈیا انٹرنیشنل سینٹر (نئی دہلی) کے حال میں میری تقریر تھی۔ یہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا۔ میری تقریر کا عنوان یہ تھا— خدا کی دریافت کس طرح کی جائے: How to discover God? ہال سامعین سے پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ اس پروگرام میں دہلی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم اور غیرمسلم افراد بڑی تعداد میں شریک تھے۔ میں نے خدا کے وجود پر سائنسی دلائل دیے۔ عجیب بات ہے کہ حاضرین میں سے کسی ایک شخص نے بھی خدا کے وجود کے بارے میں سائنسی دلائل پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ بہت سے لوگوں نے سوالات کیے، لیکن اُن کے سوالات سب کے سب انسانی دنیا میں پائے جانے والے فساد کے مسائل (problems of evil) سے تعلق رکھتے تھے۔

اِس طرح کے تجربات سے میں نے یہ سمجھا ہے کہ خدا کے نفسِ وجود پر کسی کو شبہ نہیں۔ سائنس نے عالمِ طبیعیات (physical world) میں جو معنی خیز حقیتیں دریافت کی ہیں، اُن کے بعد لوگوں کو خدا کے وجود پر کوئی شک باقی نہیں رہا۔ البتہ یہ بات اُن کی سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر خدا کا وجود ہے تو انسانی دنیا میں اتنی زیادہ برائیاں کیوں ہیں۔

اِس طرح مجھے بار بار غیرمسلموں کے اجتماعات میں اسلام کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا ہے۔ میں نے پایا ہے کہ لوگوں کو بحیثیت مذہب، اسلام کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ مگر یہ بات اُن کی سمجھ میں نہیں آتی کہ اسلام اگر اتنا اچھا مذہب ہے تو موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اتنا زیادہ بگاڑ کیوں پایا جاتا ہے۔ ان تجربات کی روشنی میں میں نے یہ سمجھا ہے کہ اس زمانے میں داعیوں کو دو ضروری کام کرنا ہے— ایک، خدا کی نسبت سے اور دوسرا، اسلام کی نسبت سے۔ پہلا کام ہے خدا اور انسان کے درمیان فرق کرنا، اور دوسرا کام ہے، اسلام اور مسلمانوں کے درمیان فرق کرنا: First, to differentiate God from man, Second, to differentiate Islam from Muslims.

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page