معاش کا مسئلہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۳
معاش کا مسئلہ
اکثر لوگ اپنی معاش کے بارے میں پریشان رہتے ہیں۔ غور کیا جائے تو اس کا سبب بنیادی طور پر دو ہوتا ہے— ایک، اپنے کاروبار کو نا قابل تنظیم حد (unmanageable limit) تک بڑھا لینا ۔ دوسرے، آمدنی سے زیادہ خرچ کرنا ۔ یہ دونوں عادتیں بلا شبہ غلط عادتیں ہیں۔ لیکن اکثر لوگ ان دونوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور پھر وہ غیر ضروری طور پر پریشان رہتے ہیں۔ معاش کا مسئلہ ہر آدمی کا مسئلہ ہے۔ اگر اس مسئلہ کو حقیقت پسندانہ انداز میں انجام دیا جائے تو وہ اپنے فطری حدود میں رہے گا اور کسی غیر ضروری پریشانی کا باعث نہ بنے گا ۔ لیکن اگر اس مسئلے کی تنظیم کے لیے حقیقت پسندی کا لحاظ نہ کیا جائے ، بلکہ جذبات اور خواہشات کی بنیاد پر اس کو چلایا جائے تو وہ پریشانیوں کا باعث بن جائے گا۔
معاشیات کے معاملے کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ اپنی استعداد اور اپنے مسائل کا بے لاگ جائزہ لیا جائے اور اس کے مطابق ، اپنی معاشیات کی منصوبہ بندی کی جائے ۔ اس معاملے میں ایڈونچر ازم (adventurism) کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے ۔ ایڈونچر ازم کا طریقہ اتفاقی طور پر کسی کے لیے مفید ہو سکتا ہے ، لیکن ایڈونچر ازم کے طریقے کو ایک عمومی اصول کے طور پر اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں دوسرا اصول یہ ہے کہ اپنی آمدنی اور اپنے خرچ کے معاملے میں توازن قائم کیا جائے ۔ کسی بھی حال میں ، یا کسی بھی عذر کی بنا پر اپنی آمدنی کے مقابلے میں اپنے خرچ کو نہ بڑھایا جائے ۔ اسی طریقے کو آمدنی اور خرچ کے درمیان توازن کہا جا سکتا ہے ۔ یہ توازن ہر ایک کے لیے ضروری ہے ، حتی کہ ایسی قوموں کے لیے بھی جن کو سپر پاور (super power) کہا جاتا ہے۔ مذکورہ دونوں اصول فطرت کے اصول ہیں۔ اس دنیا میں کوئی بھی شخص فطرت کے اصول کو نظر انداز کر کے کامیابی حاصل نہیں کر سکتا ۔ فطرت کا اصول ایک اٹل عالمی اصول ہے، اس میں کسی بھی شخص یا قوم کا کوئی استثناء (exception) نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues