Al-Risala · September 2009 · page 34

تخلیقی صلاحیت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۴

تخلیقی صلاحیت

موجودہ زمانے میں ایک رسرچ اقلیت (minority) اور اکثریت (majority) کے موضوع پر ہوئی ہے۔ اس تحقیق سے کئی ایسی حقیقتیں سامنے آئی ہیں جو اس سے پہلے لوگوں کو معلوم نہ تھیں۔ اُن میں سے ایک حقیقت وہ ہے جس کو تخلیقیت (creativity) کہا جاتا ہے، یعنی حالات کے زیر اثر آدمی کے اندرونی فکری یا عملی خصوصیات کا پیدا ہونا:

Creativity: The ability to produce something new. اصل یہ ہے کہ جب کسی سماج میں دو گروپ ہوں اقلیتی گروپ، اور اکثریتی گروپ، تو فطری قانون کے مطابق، وہاں چیلنج کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ اس چیلنج کے نتیجے میں وہاں ایک خاموش عمل (process) جاری ہوتا ہے۔ وہ عمل ہے اقلیتی گروہ کی تخلیقی صلاحیت کو بڑھانا، اقلیتی گروہ کے اندر طاقت ور داعیہ (incentive) پیدا کر کے اس کو مسلسل ترقی کی طرف لے جانا۔ یہ عمل ہر اُس ملک میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں اقلیت اور اکثریت دونوں قسم کے گروہ موجود ہوں۔ ایسے ماحول میں، اقلیتی گروہ کے اندر تخلیقی صلاحیت پیدا کرنے کا عمل ہر حال میں جاری ہے، خواہ اُس کے لیے کوئی براہِ راست کوشش کی گئی ہو، یا نہ کی گئی ہو فطرت کے عمل (process) کو اگر روکا نہ جائے تو وہ اپنے آپ جاری ہوتا ہے، اور اپنے آخری انجام تک پہنچتا ہے۔ تخلیقیت (creativity) کے اس عمل کو روکنے والی چیز صرف ایک ہے، اور وہ ہے اقلیتی گروہ کے اندر متشددانہ مزاج کا پیدا ہونا۔ اقلیتی گروہ کے اندر اگر ایسے عاقبت اندیش رہ نما پیدا ہو جائیں جو اپنی جذباتی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے لوگوں کے اندر منفی ذہن (negative thinking) پیدا کر کے اُن کو نفرت اور تشدد کے راستے پر ڈال دیں تو یقیناً یہ عمل رک جائے گا۔ بہ صورتِ دیگر، یہ عمل کسی حالت میں رکنے والا نہیں۔ یہ فطرت کا فیصلہ ہے۔ اور فطرت کے فیصلے کو خودکشی (suicide) کے سوا کوئی اور چیز روکنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page