Al-Risala · September 2009 · page 35

پختگی کیا ہے

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۵

پختگی کیا ہے

انسانوں میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں— نا پختہ ذہن والے، اور پختہ ذہن والے۔ نا پختہ ذہن وہ ہے جو جذباتی طور پر سوچے، جو رومانی خیالات میں جیتا ہو، جو اپنی خواہشات کی پیروی کرے، نہ کہ حقائق حیات کی۔ اس کے مقابلے میں پختہ ذہن والا انسان وہ ہے جو اپنے جذبات سے اوپر اٹھ کر حقیقتوں کو سمجھے، جو اپنے ذہنی خول سے باہر آ کر چیزوں کو دیکھے اور حقیقت پسندانہ انداز میں اپنی رائے قائم کرے۔ پختگی (maturity) اس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی اُن چیزوں کے ساتھ نارمل طریقے سے رہ سکے جن کو وہ بدل نہیں سکتا:

Maturity is the ability to live with things you can not change. ہر آدمی اپنی سوچ اور اپنے جذبات کے لحاظ سے ایک مستقل ہستی ہے، وہ اپنے آپ میں ایک کائنات ہے۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ وہ جیسے چاہتا ہے، ویسے دنیا میں رہے۔ وہ اپنے خوابوں کے مطابق ایک پسندیدہ دنیا کی تعمیر کر سکے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان کو ایک ایسی دنیا میں رہنا پڑتا ہے جس کو اس نے خود نہیں بنایا ہے۔ وہ ایک ایسے ماحول میں جینے پر مجبور ہے جس کی تشکیل اس نے خود نہیں کی۔ ایسی حالت میں کسی عورت یا مرد کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ یا تو وہ دنیا سے عدم موافقت کی پالیسی اختیار کر کے خودکشی کر لے، ذہنی خودکشی یا جسمانی خودکشی۔ اس کے لیے دوسرا انتخاب یہ ہے کہ وہ بظاہر غیر مطلوب دنیا کے ساتھ موافقت کرنے کا آرٹ سیکھے، وہ ناممکن سے نہ ٹکرائے اور صرف ممکن کے دائرے میں رہتے ہوئے زندگی گزارے۔

موجودہ دنیا میں ایڈجسٹ مینٹ کی پالیسی ہی واحد قابلِ عمل پالیسی ہے۔ ایڈجسٹ مینٹ کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اپنی توانائی کو ضائع ہونے سے بچائے۔ وہ غیر ضروری ٹینشن (tension) سے محفوظ رہ کر اپنا مطلوب عمل انجام دے سکے۔ وہ درمیان میں رکے بغیر اپنے سفر کو جاری رکھے، یہاں تک کہ اپنی آخری منزل پر پہنچ جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page