ایک مہلک عادت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۶
ایک مہلک عادت
زندگی کی ایک صراطِ مستقیم ہے، یعنی سیدھا راستہ جو شخص اس صراطِ مستقیم پر چلے، وہ لازمی طور پر کامیابی کی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سفر میں رکاوٹ ڈالنے والی صرف ایک چیز ہے، اور وہ ڈسٹریشن (distraction) ہے، یعنی ادھر اُدھر کی چیزوں کی طرف بھٹک جانا اور صراطِ مستقیم سے منحرف ہو جانا۔ جنت میں آدمی کے لیے جو شجرِ ممنوعہ تھا، وہ دراصل اسی ڈسٹریشن کی علامت تھا۔ اس کے ذریعے آغازِ حیات ہی میں انسان کو بتا دیا گیا کہ جس دنیا میں تم کو امتحان کے لیے بسایا جا رہا ہے، وہاں تمھارے لیے بہت سے اشجارِ ممنوعہ، یعنی ڈسٹریشن کے اسباب ہوں گے۔ اگر تم نے اپنے آپ کو ان اشجارِ ممنوعہ کی طرف بھٹکنے سے بچایا تو تم کامیابی کے ساتھ دوبارہ اپنی منزل پر پہنچ جاؤ گے، ورنہ دوبارہ تم کو جنت ملنے والی نہیں۔
یہ ڈسٹریشن مختلف صورتوں میں ہوتا ہے۔ آدمی اگر غوروفکر سے کام لے تو پہچان کر اپنے آپ کو ڈسٹریشن سے بچا سکتا ہے۔ مگر سب سے زیادہ خطرناک ڈسٹریشن وہ ہے جو آدمی کی زندگی میں عادت بن کر داخل ہو جائے۔ آدمی جس چیز کا عادی ہو جاتا ہے، وہ اُس کو سوچے بغیر کرنے لگتا ہے، وہ اس کے غیر شعوری عمل کا حصہ بن جاتا ہے۔
موجودہ زمانے میں اس قسم کی بہت سی نئی عادتیں پیدا ہوئی ہیں۔ لوگ بری طرح اُن کے عادی ہوگئے ہیں۔ اُنھیں میں سے ایک یہ ہے کہ بہت سے لوگ ٹیلی فون اڈکٹ (telephone-addict) بنے ہوئے ہیں۔ وہ اتنے زیادہ ٹیلی فون کے عادی ہوگئے ہیں کہ ٹیلی فون کے بغیر ان کو چین نہیں آتا۔ اس تباہ کن عادت نے لوگوں کو ایک بہت بڑی محرومی میں مبتلا کر دیا ہے، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دماغ دیا تھا، تا کہ وہ بڑی بڑی باتوں کو سوچے اور بڑی بڑی حقیقتوں کو دریافت کرے، لیکن ہر آدمی موبائل لیے ہوئے چھوٹی چھوٹی بے کار باتوں میں مشغول رہتا ہے، اس کے پاس بڑی بڑی باتوں پر غور کرنے کے لیے وقت ہی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues