Al-Risala · September 2009 · page 37

ایک مہلک عادت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۷

سوال

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ میں الرسالہ سے پورا اتفاق رکھتا ہوں ۔ مگر ایک چیز سے میں ابھی تک پورا اتفاق نہ کرسکا ۔ وہ یہ کہ الرسالہ میں مثبت انداز میں کام کرنے کو کہا جاتا ہے ، مگر خود الرسالہ میں تنقیدی اسلوب پایا جاتا ہے ۔ حالاں کہ تنقید کا اسلوب منفی اسلوب ہے۔ مزید یہ کہ الرسالہ کی تنقید یک طرفہ تنقید ہوتی ہے ۔ اس میں زیر تنقید شخص کے مثبت پہلو کو عام طور پر بیان نہیں کیا جاتا ۔ (ایک قاری الرسالہ ، نئی دہلی)

جواب

ماہ نامہ الرسالہ میں کبھی یہ نہیں لکھا گیا کہ تنقیدی اسلوب درست نہیں۔ الرسالہ میں جو کچھ لکھا گیا ہے ، وہ صرف منفی اسلوب کے بارے میں ہے ، نہ کہ تنقیدی اسلوب کے بارے میں ۔ منفی اسلوب میں دو قسم کی چیزیں شامل ہیں ۔ شکایتی اسلوب ، اور عیب زنی کا اسلوب ۔ یہ دونوں چیزیں بلاشبہ حرام کے درجے میں قابل ترک ہیں ۔ جہاں تک تنقیدی اسلوب کی بات ہے ، وہ سرے سے قابل اعتراض ہی نہیں۔ تنقید کے بغیر کبھی ذہنی ترقی نہیں ہوسکتی ۔ تاہم تنقید سے مراد تنقیص نہیں ہے ، بلکہ اس سے مراد علمی تجزیہ ہے۔ اور علمی تجزیہ ہمیشہ نہایت مفید ہوتا ہے ۔ الرسالہ میں جو تنقید ہوتی ہے ، وہ ہمیشہ علمی تجزیہ کے معنی میں ہوتی ہے ، نہ کہ شکایتی اسلوب ، اور عیب زنی کے اسلوب کے معنی میں ۔ اصل یہ ہے کہ لوگوں نے خود ساختہ طور پر بعض شخصیتوں کو اکابر کا درجہ دے رکھا ہے۔ اس لیے جب اُن کے مفروضہ اکابر پر تنقید کی جائے تو اس سے اُنہیں تکلیف پہنچتی ہے ۔ مگر ملت کے افراد کو اصاغر اور اکابر میں تقسیم کرنا ، بجائے خود ایک بدعت ہے ، اور بدعت کو حدیث میں ضلالت کہا گیا ہے۔ اسلوب کلام کے دو طریقے ہیں ۔ ایک ، اصلاحی اسلوب ، اور دوسرا ، قانونی اسلوب ۔ دونوں کے تقاضے الگ الگ ہیں ۔ اس لیے دونوں کا انداز یکساں نہیں ہوسکتا۔

اصلاحی اسلوب کا مقصد کسی شخص یا اشخاص کی اصلاح ہوتا ہے ۔ اس لیے حکمت کا تقاضا ہوتا ہے کہ سارا زور کمی والے پہلو پر دیا جائے ، تاکہ آدمی کا ذہن اس کو پکڑ سکے ۔ اصلاحی اسلوب میں

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page